• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 23295

    عنوان: میرا بالغ لڑکا صاحب مال نہیں ہے تو کیا وہ زکاة کا مستحق ہے؟ جب کہ اس کے گھروالے درمیانی حیثیت کے ہیں اور صاحب مال بھی ہیں تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟

    سوال: میرا بالغ لڑکا صاحب مال نہیں ہے تو کیا وہ زکاة کا مستحق ہے؟ جب کہ اس کے گھروالے درمیانی حیثیت کے ہیں اور صاحب مال بھی ہیں تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟

    جواب نمبر: 23295

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(م):1027=1027-7/1431

    آپ اپنے لڑکے کو زکاة نہیں دے سکتے چاہے وہ غریب اور مستحق زکاة ہو، اسی طرح آپ کا لڑکا اگر شادی شدہ ہے تو اس کی بیوی بھی اس کو زکاة نہیں دے سکتی، ہاں بیوی کے والدین یعنی آپ کے لڑکے کے سسر، ساس وغیرہما اس کو زکاة دے سکتے ہیں، اسی طرح دوسرے لوگ آپ کے لڑکے کو زکاة دے سکتے ہیں بشرطیکہ وہ مستحق زکاة ہو۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند