• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 21418

    عنوان:

    یہ معلوم کرنا ہے کہ :ہمارےعلاقہ میں مچلی کی پرورش ہوتی ہے اوروہ اس طرح کرتےہیں کہ تین، چارسال کیلئےءایک بڑا علاقہ اجارہ پرلےلیتےہیں،اوراس میں پانی جمع رکھتے ہیں ،پھراس میں مچلی کےبچےیا انڈےچھوڑدہتےہیں ،تین چار سال کےبعد وہ دو تین کلو کےوزن کے ہوجاتےہیں،پھران کو جال سے پانی پکڑتے ہیں اور فروخت کرتے ہیں ، اور یہ سارا کام تجارت کے طور پر کرتے ہیں ، اب پوچنا ہے کہ ان تجارتی مچھلیوں زکا‏ۃ واجب ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو سال یا چار سال کا حسا ب کس طرح کریگا ؟ کیونکہ ہر سال مچھلی کا وزن اور قیمت مختلف ہوتی ہے۔

    سوال:

    یہ معلوم کرنا ہے کہ :ہمارےعلاقہ میں مچلی کی پرورش ہوتی ہے اوروہ اس طرح کرتےہیں کہ تین، چارسال کیلئےءایک بڑا علاقہ اجارہ پرلےلیتےہیں،اوراس میں پانی جمع رکھتے ہیں ،پھراس میں مچلی کےبچےیا انڈےچھوڑدہتےہیں ،تین چار سال کےبعد وہ دو تین کلو کےوزن کے ہوجاتےہیں،پھران کو جال سے پانی پکڑتے ہیں اور فروخت کرتے ہیں ، اور یہ سارا کام تجارت کے طور پر کرتے ہیں ، اب پوچنا ہے کہ ان تجارتی مچھلیوں زکا‏ۃ واجب ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو سال یا چار سال کا حسا ب کس طرح کریگا ؟ کیونکہ ہر سال مچھلی کا وزن اور قیمت مختلف ہوتی ہے۔

    جواب نمبر: 21418

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(د): 638=484-5/1431

     

    جس دن آپ نے مچھلی کے بچے تجارت کی نیت سے خریدکر تالاب میں ڈالے ہیں اس دن ان کی قیمت اگر بقدر نصاب تھی تو اس دن کے حساب سے ان پر ایک سال گذرنے کے بعد زکاة واجب ہوگی اور ان کی زکاة نکالنے کا طریقہ یہ ہے کہ چونکہ پانی میں موجود مچھلیوں کا ایک سال کے بعد صحیح طور پر وزن معلوم کیا جانا دشوار ہے، لہٰذا ایک سال پورا ہونے پر تالاب کی مچھلیوں کی اندازاً جتنی مالیت بنتی ہو اتنی مالیت اور قیمت پر زکاة واجب ہوگی اوراس کا چالیسواں حصہ زکاة میں دیا جائے گا، کما في الدر المختار أو في عرض التجارة قیمتہ نصاب (۳/۲۶۸، کتاب الزکاة، زکریا)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند