• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 20429

    عنوان:

    میرے سوالات زکوة کے متعلق ہیں۔ (۱) سونے کے وہ زیورات جو کہ عورت کو اس کے گھر والوں نے شادی پر دیا تھا اور جب بعد میں کسی موقع پر کسی نے تحفہ دیا ہو اس پر زکوة کے کیا احکام ہوں گے؟ (۲)ایسے سونے کے زیورات جن کو عورت نے اپنی بچیوں کی شادی کے نام پر رکھا ہو کیا اس پر زکوة ہوگی؟ (۳)صاحب نصاب کیا ہے، تینوں صورتوں میں الگ الگ زکوة کس طرح ہوگی (اگر صرف روپئے ہو تو، صرف چاندی ہو تو، صرف سونا ہو تو)؟

    سوال:

    میرے سوالات زکوة کے متعلق ہیں۔ (۱) سونے کے وہ زیورات جو کہ عورت کو اس کے گھر والوں نے شادی پر دیا تھا اور جب بعد میں کسی موقع پر کسی نے تحفہ دیا ہو اس پر زکوة کے کیا احکام ہوں گے؟ (۲)ایسے سونے کے زیورات جن کو عورت نے اپنی بچیوں کی شادی کے نام پر رکھا ہو کیا اس پر زکوة ہوگی؟ (۳)صاحب نصاب کیا ہے، تینوں صورتوں میں الگ الگ زکوة کس طرح ہوگی (اگر صرف روپئے ہو تو، صرف چاندی ہو تو، صرف سونا ہو تو)؟

    جواب نمبر: 20429

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ھ): 579=454-3/1431

     

    (۱) کل زیورات کی زکاة ایسی صورت میں بذمہٴ عورت مذکورہ واجب ہے۔

    (۲) بچیوں کے محض نام پر رکھ دینے سے تبدیلِ ملک نہیں ہوتی، پس ایسی صورت میں بھی عورت مذکورہ پر ہی زکاة واجب ہے۔ البتہ بچیوں کو دے کر مالک اور قابض بنادیا تو بجائے عورت کے بچیوں پر زکاة کا حکم متوجہ ہوجائے گا۔

    (۳) اگر صرف روپئے ہوں اور چاندی کے نصاب کے بقدر ان کی مقدار ہو تو زکاة واجب ہوگی اور ان روپیوں کا مالک صاحب نصاب ہوگا، اگر صرف سونا ہو تو ساڑھا سات (7.5) تولہ وزن ہونے پر صاحب نصاب ہوجائے گا، اگر صرف چاندی ہو تو ساڑھے باون (52.5) تولہ چاندی یا اس سے زائد ہو تو صاحب نصاب ہوجائے گا، اور اس پر حسب شرائط ، زکاة واجب ہوگی۔ تفصیلات کتب فقہ وفتاویٰ میں ہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند