• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 18113

    عنوان:

    سوال یہ ہے کہ میں نے کسی شخص کو زکوة دی لیکن وہ شخص اپنے آپ کو زکوة کا مستحق نہیں کہتا لیکن بظاہر اس کی حالت مستحق ہو نے کی ہے تو اس حالت میں میری زکوة ادا ہو گی یا نہیں؟

    سوال:

    سوال یہ ہے کہ میں نے کسی شخص کو زکوة دی لیکن وہ شخص اپنے آپ کو زکوة کا مستحق نہیں کہتا لیکن بظاہر اس کی حالت مستحق ہو نے کی ہے تو اس حالت میں میری زکوة ادا ہو گی یا نہیں؟

    جواب نمبر: 18113

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(م):1847=1847-1/1431

     

    زکاة دینے سے پہلے اگر شخص مذکور کا غیرمستحق ہونا اس کے کہنے سے معلوم ہوگیا تھا، پھر بھی آپ نے زکاة دیدی تو یہ درست نہیں کیا، زکاة ادا نہ ہوئی، اور اگر زکاة دینے سے پہلے ظاہر حال سے اس کا مستحق ہونا معلوم ہوتا تھا، اور آپ نے اس کو مصرف سمجھ کر زکاةدیدی تو آپ کی زکاة ادا ہوگئی: دفع بتحر لمن یظنہ مصرفًا․․ وفي الشامي: أما لو تحری فدفع لمن ظنہ غیر مصرف أوشک ولم یتحر لم یجز حتی یظھر أنہ مصرف فیجزیہ في الصحیح، خلافاً لمن ظن عدمہ وتمامہ في النہر، وفیہ واعلم أن المدفوع إلیہ لو کان جالسًا في صف النقراء یصنع صنعہم أو کان علیہ زیہم أو سألہ فأعطاہ کانت ہذہ الأسباب بمنزلة التحري، وکذا في المبسوط حتی لو ظہر غناہ لم یعد (در مع الشامي)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند