• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 18087

    عنوان:

    ہم والدین اور چار لڑکے ہیں۔ ہمارے پاس ایک دکان اورایک مکان ہے ۔ ہم نے ایک پلاٹ سولہ لاکھ کا اور ایک فلیٹ پندرہ لاکھ کا ایک شخص (ماما)کے ساتھ ایک چوتھائی شراکت کے ساتھ درج ذیل نیت سے خریدا: (۱)ان کو زیادہ قیمت پر فروخت کرنا اور ایک دوسری پراپرٹی خریدنا اور اس کے بعد اس کو دوبارہ فروخت کردینا اوراسی طرح آگے۔ (۲) پیسوں کی ضروت کے وقت یعنی (شادی، مکان کی تجدید، کاروبار وغیرہ)تو ایک یا دونوں کو فروخت کرنا۔ (۳)ایک کار فروخت کرنا اور خریدنا آدھے لین دین سے اور دوبارہ پراپرٹی میں سرمایہ کاری کرنا۔ (۴)اپنے کاروبار کو پھیلانے کے لیے ایک دوسری دکان خریدنا اور فروخت کرنا۔ کیا مجھ کو ان پراپرٹی پر زکوة ادا کرنی ہوگی (موجودہ مالیت پر یا اصل قیمت پر)؟

    سوال:

    ہم والدین اور چار لڑکے ہیں۔ ہمارے پاس ایک دکان اورایک مکان ہے ۔ ہم نے ایک پلاٹ سولہ لاکھ کا اور ایک فلیٹ پندرہ لاکھ کا ایک شخص (ماما)کے ساتھ ایک چوتھائی شراکت کے ساتھ درج ذیل نیت سے خریدا: (۱)ان کو زیادہ قیمت پر فروخت کرنا اور ایک دوسری پراپرٹی خریدنا اور اس کے بعد اس کو دوبارہ فروخت کردینا اوراسی طرح آگے۔ (۲) پیسوں کی ضروت کے وقت یعنی (شادی، مکان کی تجدید، کاروبار وغیرہ)تو ایک یا دونوں کو فروخت کرنا۔ (۳)ایک کار فروخت کرنا اور خریدنا آدھے لین دین سے اور دوبارہ پراپرٹی میں سرمایہ کاری کرنا۔ (۴)اپنے کاروبار کو پھیلانے کے لیے ایک دوسری دکان خریدنا اور فروخت کرنا۔ کیا مجھ کو ان پراپرٹی پر زکوة ادا کرنی ہوگی (موجودہ مالیت پر یا اصل قیمت پر)؟

    جواب نمبر: 18087

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ل):2036=1610-1/1431

     

    جو جائداد یا سامان فروخت کرنے کی نیت سے خریدی جائے اس پر زکاة واجب ہے، اور زکاة کی ادائیگی موجودہ قیمت کے اعتبار سے ادا کرنی ہوگی، اصل قیمت کے اعتبار سے نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند