• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 16726

    عنوان:

    عبداللہ اور احمد ایک کمیٹی/بسسی کے ممبر ہیں جس کے پچاس ممبر ہیں او رپچاس ماہ پر مشتمل ہے اور ہر ماہ اس کی قرعہ اندازی ہوتی ہے اور کل رقم ہے پچاس ہزارروپیہ۔ پندرہ ماہ کے بعد عبداللہ کی کمیٹی/بسسی نکل آتی ہے اور پھر احمد اس رقم کو عبداللہ سے اس شرط پر حاصل کرتا ہے کہ جب میری کمیٹی/ بسسی نکلے گی تو میں ٹمہیں ادائیگی کردوں گا اور پھر اس طرح بیس مہینے گزرگئے ہیں لیکن احمد کی کمیٹی/ بسسی نہیں نکلی او رمزید پندرہ مہینے باقی ہیں۔ احمد نے جو رقم لی تھی وہ بھی خرچ ہوچکی ہے۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا احمد زکوة کا مستحق ہے یا احمد صاحب نصاب کہلائے گا کیوں کہ آئندہ پندرہ ماہ میں کسی بھی ماہ اس کی کمیٹی/ بسسی نکل سکتی ہے؟ اور پھر اسے عبداللہ کو رقم بھی واپس کرنی ہے او رمزید پندرہ ماہ تک اسے ہر ماہ ایک ہزارروپیہ کمیٹی/بسسی کے جمع بھی کرنے ہیں۔

    سوال:

    عبداللہ اور احمد ایک کمیٹی/بسسی کے ممبر ہیں جس کے پچاس ممبر ہیں او رپچاس ماہ پر مشتمل ہے اور ہر ماہ اس کی قرعہ اندازی ہوتی ہے اور کل رقم ہے پچاس ہزارروپیہ۔ پندرہ ماہ کے بعد عبداللہ کی کمیٹی/بسسی نکل آتی ہے اور پھر احمد اس رقم کو عبداللہ سے اس شرط پر حاصل کرتا ہے کہ جب میری کمیٹی/ بسسی نکلے گی تو میں ٹمہیں ادائیگی کردوں گا اور پھر اس طرح بیس مہینے گزرگئے ہیں لیکن احمد کی کمیٹی/ بسسی نہیں نکلی او رمزید پندرہ مہینے باقی ہیں۔ احمد نے جو رقم لی تھی وہ بھی خرچ ہوچکی ہے۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا احمد زکوة کا مستحق ہے یا احمد صاحب نصاب کہلائے گا کیوں کہ آئندہ پندرہ ماہ میں کسی بھی ماہ اس کی کمیٹی/ بسسی نکل سکتی ہے؟ اور پھر اسے عبداللہ کو رقم بھی واپس کرنی ہے او رمزید پندرہ ماہ تک اسے ہر ماہ ایک ہزارروپیہ کمیٹی/بسسی کے جمع بھی کرنے ہیں۔

    جواب نمبر: 16726

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ھ):2053=1656-11/1430

     

    اگر وہ پچاس ہزار روپئے کا مقروض ہے اور اموالِ زکاة اس کی ملکیت میں نہیں ہیں تو وہ مستحق زکاة ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند