• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 164056

    عنوان: پلاٹ پر زکات کے متعلق

    سوال: حضرت، میرا ایک پلاٹ ہے۔ یہ پلاٹ میرے والد صاحب کی طرف سے تحفہ میں ملا ہے۔ میری آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں تھا اس لئے میں نے اس کی ۸/ سال تک زکات ادا نہیں کی۔ اب میں نے اسے فروخت کردیا ہے اور میں ۸/ سالوں کی زکات ادا کرنا چاہتا ہوں ۔ مجھے کتنی رقم ادا کرنی ہے؟ پہلے پلاٹ کی قیمت بہت کم تھی کیونکہ زمین استعمال میں نہیں تھی۔ اب اس کی قیمت بہتر ہے ا س لیے میں نے اِس کو فروخت کر دیاہے۔ تو اب مجھے کتنی زکات ادا کرنی پڑے گی؟

    جواب نمبر: 164056

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 1276-1099/B=12/1439

    وہ پلاٹ آپ کو والد صاحب کی طرف سے عطیہ اور تحفہ میں ملا ہے آپ نے فروخت کرنے کے لئے نہیں خریدا ہے، اس لئے اس میں زکوة واجب نہیں۔ اب جب کہ آپ نے اسے فروخت کردیا ہے تو جب آپ اپنے مال کی زکات نکالتے ہوں اور اس وقت پلاٹ کی قیمت باقی رہے تو پلاٹ کی قیمت بھی اس میں شامل کرکے مال کی زکات نکال دیجئے۔ آپ کو پچھلے آٹھ سالوں کی زکات نکالنے کی ضرورت نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند