• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 162783

    عنوان: سونا اور چاندی دونوں ہوں اور دونوں میں سے الگ الگ کوئی بہ قدر نصاب نہ ہو تو زکوة کا کیا حکم ہوگا؟ اور زکوة کیسے نکالی جائے گی؟

    سوال: حضرت یہ بتائیں کہ ساڑھے پانچ تولہ سونا اور بیس تولہ چاندی ہے تو اس کی زکوة کیسے اور کتنی نکلے گی؟ مدلل جواب عنایت فرمائیں بڑی مہربانی ہوگی، خیرا واحسن الجزاء فی الدارین۔

    جواب نمبر: 162783

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:1071-912/N=11/1439

    (۱، ۲): اگر کسی کے پاس سونا اور چاندی یا کرنسی دونوں یا تینوں ہوں تو زکوة کے باب میں چاندی کے نصاب کا اعتبار ہوتا ہے ، یعنی: اگر مالیت کے اعتبار سے چاندی کا نصاب مکمل ہوجائے تو اس شخص پر زکوة واجب ہوگی۔ اور صورت مسئولہ میں بلاشبہ مالیت کے اعتبار سے چا ندی کا نصاب مکمل ہوجاتا ہے ؛ اس لیے شخص مذکور پر زکوة واجب ہوگی۔ اور زکوة نکالنے کا طریقہ یہ ہوگا کہ دونوں کی کل مالیت کا چالیسواں حصہ زکوة میں ادا کردیا جائے۔

    ویضم الذھب إلی الفضة وعکسہ بجامع الثمنیة قیمة الخ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الزکاة، باب زکاة المال، ۳:۲۳۴، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، أما العروض فتضم قیمتھا إلی الذھب أو الفضة ویکمل بھا نصاب کل منھما، قال ابن قدامة: لا نعلم في ذلک خلافاً، وفي ھذا المعنی العملة النقدیة المتداولة (الموسوعة الفقہیة، ۲۳: ۲۶۸)، باب زکاة المال، أل فیہ للمعھود في حدیث : ” ھاتوا ربع عشر أموالکم“،……واللازم ……ربع عشر (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الزکاة، باب زکاة المال، ۳:۲۲۴- ۲۲۹) ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند