• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 162377

    عنوان: ساس اور بہو کے زیور کی زکاة کس پر ہے؟

    سوال: والد صاحب کی وفات کے بعد گھر کی ذمہ داری مجھ پر ہے گھر میں تقریبا 22تولے سونا ہے جو کہ میری منکوحہ اور کچھ میری والدہ کے پاس ہے جس کی زکواة والد صاحب کی پنشن ،میری تنخواہ وغیرہ سے ادا کرتے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ میں نے اس سال گھر کی تعمیر کی ہے جس میں کافی خرچہ ہوگیا ہے اور میں مقروض ہوگیا ہوں ہم ماہ رمضان میں زکواة ادا کرتے ہیں مگر اس ماہ رمضان مجھ پر قرضہ ہے تو کیاقرضہ کی وجہ سے ماہ رمضان کے بعد والے ماہ شعبان میں اگرہم زکوا ة کی رقم ادا کریں تو کوئی گناہ تو نہیں دوسرا نقدی اور جواہرات کے علاوہ بھی گھر کی دوسری اشیاء کپڑوں،برتنوں،صوفہ سیٹ،ومتفرق اشیاء پر بھی زاکواة لگتی ہے اگر ہے تو اسکے حساب کا کیا طریقہ کار ہے ۔

    جواب نمبر: 162377

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:1236-1244/sd=1/1440

     (۱)گھر میں سونا جس کی ملکیت میں ہے ، زکات حسب شرائط اسی پر فرض ہے ، اگر آپ کی اہلیہ اور والدہ دونوں کے پاس بقدر نصاب سونا ہے ، تو دونوں پر حسب شرائط زکات فرض ہوگی؛ البتہ اگر آپ دونوں کی اجازت سے اُن کی زکات اداء کردیں، تب بھی اُن کی زکات اداء ہوجائے گی ، فی الحال قرض کی وجہ سے اگر نقدی نہ ہو، تو ایک دو ماہ کے بعد زکات نکالنے کی گنجائش ہے ؛ لیکن زیادہ تاخیر نہ کی جائے ، متعین تاریخ پر زکات کا حساب کرکے نوٹ کرلیں، اگر نقدی کا انتظام نہ ہو، تو زکات بہرحال اداء کرنی ہوگی، خواہ کچھ سونا فروخت کرکے زکات نکالی جائے یا زکات کی مقدار کے بقدر سونا غرباء کو دیا جائے۔

    (۲) ضرورت کی اشیاء :کپڑے ، برتن، صوفہ وغیرہ پر زکات فرض نہیں ہے ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند