• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 16036

    عنوان:

    میرے پاس تقریباً تین لاکھ مالیت کا سونا ہے لیکن میں تقریباً ایک لاکھ روپیہ کا قرضدار بھی ہوں اس صورت میں کیا مجھے زکوة دینی ہوگی؟ (۲)اگر آدھا قرض رمضان سے پہلے ادا کردیتاہوں تو پھر کیا مجھ پر زکوة واجب ہوگی؟ (۳)اگر میرا تمام قرض رمضان سے پہلے ادا ہوجاتا ہے تو پھر زکوة کی کیا صورت ہوگی؟ میں پورا سال قرض دار رہاہوں۔

    سوال:

    میرے پاس تقریباً تین لاکھ مالیت کا سونا ہے لیکن میں تقریباً ایک لاکھ روپیہ کا قرضدار بھی ہوں اس صورت میں کیا مجھے زکوة دینی ہوگی؟ (۲)اگر آدھا قرض رمضان سے پہلے ادا کردیتاہوں تو پھر کیا مجھ پر زکوة واجب ہوگی؟ (۳)اگر میرا تمام قرض رمضان سے پہلے ادا ہوجاتا ہے تو پھر زکوة کی کیا صورت ہوگی؟ میں پورا سال قرض دار رہاہوں۔

    جواب نمبر: 16036

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1697=1389/1430/د

     

    (۱) قرض کی ایک لاکھ رقم منہا کرکے بقیہ دو لاکھ پر زکات دینا لازم وواجب ہوگا۔

    (۲) جس قدر قرض باقی رہے اسے منہا کرکے بقیہ کی زکات دیں۔

    (۳) جس وقت آپ کے ادائیگی زکات کا سال پورا ہوتا ہے، اس وقت کا اعتبار کیا جائے گا۔ جس قدر مالیت کا سونا چاندی یا نقد روپیہ اس وقت آپ کے پاس ہوگا، قرض منہا کرکے بقیہ پر زکات ادا کرنا ہوگا، سال بھر مقروض رہنے کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند