• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 15968

    عنوان:

    ہمارے گاؤں رسول پور میں ایک مکتب ہے جو بہت ہی پرانا ہے، یہاں اس کے آس پاس رہنے والے مسلمانوں کی تعداد تقریباً سو گھروں پر مشتمل ہے ۔ ہمارے مکتب میں تقریباً سارے غریب بچے ہی قرآن کی تعلیم لیتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ مکتب لوگوں کی بے توجہی کا شکار ہے اس کا چندہ اتنا بھی نہیں ہوپاتا کہ ایک استاذ کی تنخواہ دی جاسکے۔ ہمارے گاؤں میں قربانی ہوتی ہے مگر اس کو مدرسہ کے مصرف میں نہیں لا پاتے، کیوں کہ یہاں طلباء قیام نہیں کرتے ہیں، اسی طرح زکوة اورفطرہ کے پیسے بھی استعمال نہیں کرپاتے، اور کوئی امداد کے نام پر دیتا نہیں۔ ہمارے گاؤں کے لوگ بہت پریشان ہیں۔ دوسرے مدرسہ کے لوگ آکر چرم قربانی لے جاتے ہیں مگر ہم کچھ کرنہیں سکتے۔ اس مکتب کے علاوہ کوئی آس پاس مدرسہ ہے نہیں جہاں بچوں کو بھیجاجاسکے۔ آخر کیا کریں، مدرسہ بند کردیں؟ چونکہ یہاں سارے غریب بچے ہیں اس بنیاد پر میں چرم قربانی لے لیتا تھا مگر دل کے اندر ایک خلش رہتی ہے کہ کہیں غلط نہ ہو جائے۔ میں نے ...

    سوال:

    ہمارے گاؤں رسول پور میں ایک مکتب ہے جو بہت ہی پرانا ہے، یہاں اس کے آس پاس رہنے والے مسلمانوں کی تعداد تقریباً سو گھروں پر مشتمل ہے ۔ ہمارے مکتب میں تقریباً سارے غریب بچے ہی قرآن کی تعلیم لیتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ مکتب لوگوں کی بے توجہی کا شکار ہے اس کا چندہ اتنا بھی نہیں ہوپاتا کہ ایک استاذ کی تنخواہ دی جاسکے۔ ہمارے گاؤں میں قربانی ہوتی ہے مگر اس کو مدرسہ کے مصرف میں نہیں لا پاتے، کیوں کہ یہاں طلباء قیام نہیں کرتے ہیں، اسی طرح زکوة اورفطرہ کے پیسے بھی استعمال نہیں کرپاتے، اور کوئی امداد کے نام پر دیتا نہیں۔ ہمارے گاؤں کے لوگ بہت پریشان ہیں۔ دوسرے مدرسہ کے لوگ آکر چرم قربانی لے جاتے ہیں مگر ہم کچھ کرنہیں سکتے۔ اس مکتب کے علاوہ کوئی آس پاس مدرسہ ہے نہیں جہاں بچوں کو بھیجاجاسکے۔ آخر کیا کریں، مدرسہ بند کردیں؟ چونکہ یہاں سارے غریب بچے ہیں اس بنیاد پر میں چرم قربانی لے لیتا تھا مگر دل کے اندر ایک خلش رہتی ہے کہ کہیں غلط نہ ہو جائے۔ میں نے کسی مفتی صاحب کی کتاب پڑھی جس میں انھوں نے مکاتب کو چرم قربانی او رزکوة کے پیسے دینے کا جواز دیا تھا۔ اورایک صاحب نے بتایا کہ علامہ یوسف قرضاوی کے نزدیک بھی مکاتب کو زکوة کے پیسے دینا صحیح ہے۔ مولانا اس کی کوئی صورت نکالئے ورنہ ہمارے گاؤں کی بڑی تعداد انگریزی ، ہندی تو جانتی ہے مگر اسلام کی بنیادی تعلیم سے دور ہوتی جارہی ہے۔ مسئلہ کا حل اگر ہوسکے تو جلد از جلد روانہ فرماویں، تاکہ اسی بنیاد پر چند ہ رمضان کے موقع پر کیا جاسکے۔ والسلام

    جواب نمبر: 15968

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(د):1796=268k-10/1430

     

    مکاتب میں زکات یا چرم قربانی کی قیمت دینا جسے مکاتب والے مدرسین کی تنخواہ میں یا بلڈنگ کی تعمیر میں صرف کریں جائز نہیں ہے کیونکہ زکات اور چرم قربانی کی قیمت کا کسی غریب کو مالک بناکر دینا ضروری ہے، بغیر اس کے زکات کی ادائیگی درست نہ ہوگی۔

    کسی مفتی صاحب کی کس کتاب میں آپ نے کیا پڑھا؟ حوالہ وضاحت کے ساتھ لکھتے تو جواب دیا جاتا۔ بہرحال آپ کے گاوٴں کے لوگ کسی ایک شخص کو چرم قربانی کا مالک بنادیں کہ وہ شخص ان کھالوں کا جو چاہے کرے، چاہے اپنے استعمال میں لائے یا جو چاہے کرے، پھر یہ شخص اپنی خوشی سے ان کھالوں کو فروخت کرکے مکتب میں دیدے، اس کی آمدنی سے مکتب کے مدرسین کی تنخواہ دینا جائز ہوگا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند