• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 152227

    عنوان: دوکان کی خریداری کے وقت اگرزید کی نیت اس کو بیچنے کی نہیں تھی‏، تو كیا اس پر زكاۃ ہوگی؟

    سوال: زید نے ایک دکان خریدی تھی اس نیت سے کہ یا تو وہ اس کو کرائے پر دے گا یا اس کو مستقبل میں کچھ بزنس کے لیے خود سے استعمال کرے گا، کچھ سالوں کے بعد انہوں نے دکان کرائے پر نہیں دی اور نہ ہی اس کو خود سے بزنس کے لیے استعمال کیا، اور اس وقت اس کو یقین نہیں ہے کہ وہ مستقبل میں اس جائیداد کو استعمال کرے گیا یا نہیں؟ممکن ہے کہ وہ اب بھی اس کو اپنے بزنس کے لیے استعمال کرے یا اس کو بیچ کر کوئی بڑی دکان یا کچھ اور اپنے لیے خرید لے،تو ایسی صورت حال میں اس دکان کا شمار اضافی /غیر استعمال شدہ مال میں شمار ہوگا؟اور اس پر زکاة واجب ہوگی؟یا اس کی نیت پہلے طرح باقی رہ سکتی ہے کہ وہ یا اس کو کرائے پر دے گا یا خود سے بزنس کرے گا تاکہ زکاة واجب نہ ہو؟

    جواب نمبر: 152227

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1210-1166/M=9/1438

    صورت مسئولہ میں دوکان کی خریداری کے وقت اگرزید کی نیت اس کو بیچنے کی نہیں تھی بلکہ اس کو کرایہ پر دینے کی نیت تھی یا خود بزنس کے لیے استعمال کرنے کی نیت تھی تو اس دوکان کا شمار تجارتی مال میں نہیں ہوگا اور اس کی مالیت پر زکات واجب نہ ہوگی اگر اب نیت بیچنے کی ہو بھی جائے تب بھی محض نیت کے بدلنے سے اس پر زکات واجب نہ ہوگی ہاں اگر اس کو بیچ دے تو اس کی قیمت پر حسب شرائط وجوب، زکات کا حکم ہوگا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند