• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 149814

    عنوان: وراثت میں حصہ ملنے سے قبل زكاۃ لینا درست ہے یا نہیں؟

    سوال: سوال: ایک خاتون جن کے والد کا انتقال ھو گیا ھے اور والد کے چھوڑے ہوئے مکان میں ان کا وراثتی حصہ ہے اس مکان میں خاتون کے بھائی رہائش پذیر ہیں اور فی الوقت ترکہ کی تقسیم کا دور دور تک کوئی امکان نہیں نہ ہی بھائی اس کا تذکرہ کرتے ہیں ایسی صورت میں یہ خاتون زکات لے سکتی ہیں؟ جبکہ اس وراثتی حصے کے علاوہ اس کے پاس کوئی ایسی چیز نھیں جو زکات لینے سے مانع ہو۔

    جواب نمبر: 149814

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 595-569/sd=6/1438

     جی ہاں! صورت مسئولہ میں اگر خاتون کے پاس مذکورہ مکان میں وراثتی حصے کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہے، تو وہ زکات لے سکتی ہے۔ وراثتی حصے کی وجہ سے اُس کو صاحبِ نصاب نہیں قرار دیا جائے گا، اس لیے کہ خاتون کا حصہ عین مکان کے ساتھ متعلق ہے، جو زکات کے نصاب کے باب میں اسی وقت محسوب ہوتا ہے، جب کہ ضرورت سے زائد ہو اور یہاں اُس خاتون کے پاس اس حصے کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند