• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 13709

    عنوان:

    میں زکوة کے تعلق سے چند سوالات کرنا چاہتاہوں۔ (۱)میرے مرحوم چچا نے مجھ کو اپنی زندگی میں ایک مکان ہبہ کیا۔ میرے والد صاحب نے اپنی موت سے پہلے اپنی وصیت میں لکھا تھاکہ مکان میری ملکیت میں بطور میری پراپرٹی کے رہے گا۔ میرے والد کے انتقال کے بعد میرے خونی رشتہ داروں نے نہ تومجھ کو مکان کی اصل فائل دی اور نہ ہی وہ لوگ مجھ کو وہ کرایہ دے رہے ہیں جو کہ وہ لوگ اس مکان میں رہنے والے کرایہ داروں سے وصول کررہے ہیں۔میں نے یہ پلان بنایا ہے کہ اگر مجھ کو اس مکان کی فائل ملے گی تو میں اس کو فروخت کردوں گا اور اس کا پیسہ کہیں اور لگادوں گا۔کیامجھ کو اپنی زکوة کو شمار کرنے میں اس مکان کی مالیت کوشمار کرنا چاہیے؟(۲)میں نے پانچ سال کی قسطوں پر ایک زمین بک کرائی ہے۔ اس زمین کی مالیت بک کرانے کے وقت جیسا کہ بلڈر نے بتایا تقریباً چھ لاکھ تھی۔ اب تک میں نے آدھی رقم جمع کردی ہے۔ میں نے منصوبہ بنایا ہے کہ جب مجھ کو اس زمین کی فائل ملے گی تو میں اس کو فروخت کردوں گا اور اس پیسہ کو کہیں اور لگاؤں گا۔ کیا مجھ کو وہ رقم جو کہ میں نے بلڈر کے پاس جمع کی ہے اپنی زکوة کو شمار کرنے میں شامل کرنا چاہیے؟توکیا مجھ کو پانچ سال کے بعد اس کی ملکیت ملنے کے بعد زکاة شمار کرنے کے لیے اس پلاٹ کی مالیت کو شامل کرنا چاہیے ؟ (۳)میں ایک کمیٹی (بیسی) میں جو کہ اسی ہزار کی ہے شامل ہورہا ہوں۔ مجھ کو میری رقم حال ہی میں ملی ہے اور مجھ کو بقیہ پیسہ مابعد مہینہ میں ادا کرنے ہیں، آئندہ سالوں کی زکاة شمار کرنے کے لیے میں کتنی رقم شامل کروں گا ؟

    سوال:

    میں زکوة کے تعلق سے چند سوالات کرنا چاہتاہوں۔ (۱)میرے مرحوم چچا نے مجھ کو اپنی زندگی میں ایک مکان ہبہ کیا۔ میرے والد صاحب نے اپنی موت سے پہلے اپنی وصیت میں لکھا تھاکہ مکان میری ملکیت میں بطور میری پراپرٹی کے رہے گا۔ میرے والد کے انتقال کے بعد میرے خونی رشتہ داروں نے نہ تومجھ کو مکان کی اصل فائل دی اور نہ ہی وہ لوگ مجھ کو وہ کرایہ دے رہے ہیں جو کہ وہ لوگ اس مکان میں رہنے والے کرایہ داروں سے وصول کررہے ہیں۔میں نے یہ پلان بنایا ہے کہ اگر مجھ کو اس مکان کی فائل ملے گی تو میں اس کو فروخت کردوں گا اور اس کا پیسہ کہیں اور لگادوں گا۔کیامجھ کو اپنی زکوة کو شمار کرنے میں اس مکان کی مالیت کوشمار کرنا چاہیے؟(۲)میں نے پانچ سال کی قسطوں پر ایک زمین بک کرائی ہے۔ اس زمین کی مالیت بک کرانے کے وقت جیسا کہ بلڈر نے بتایا تقریباً چھ لاکھ تھی۔ اب تک میں نے آدھی رقم جمع کردی ہے۔ میں نے منصوبہ بنایا ہے کہ جب مجھ کو اس زمین کی فائل ملے گی تو میں اس کو فروخت کردوں گا اور اس پیسہ کو کہیں اور لگاؤں گا۔ کیا مجھ کو وہ رقم جو کہ میں نے بلڈر کے پاس جمع کی ہے اپنی زکوة کو شمار کرنے میں شامل کرنا چاہیے؟توکیا مجھ کو پانچ سال کے بعد اس کی ملکیت ملنے کے بعد زکاة شمار کرنے کے لیے اس پلاٹ کی مالیت کو شامل کرنا چاہیے ؟ (۳)میں ایک کمیٹی (بیسی) میں جو کہ اسی ہزار کی ہے شامل ہورہا ہوں۔ مجھ کو میری رقم حال ہی میں ملی ہے اور مجھ کو بقیہ پیسہ مابعد مہینہ میں ادا کرنے ہیں، آئندہ سالوں کی زکاة شمار کرنے کے لیے میں کتنی رقم شامل کروں گا ؟

    جواب نمبر: 13709

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1170=1110/ب

     

    صورت مسئولہ میں مکان اور اس کی فائل آپ کی ملکیت میں آجانے کے بعد بھی اس پر زکات واجب نہیں ہے، البتہ جب آپ ان مکانوں کو بیچ دیں گے اگر اس کی مالیت مقدار نصاب کو پہنچ جائے تو پھر اس پر زکات واجب ہے، سال کے گزرجانے کے بعد۔

    جب آپ نے تجارت کی نیت سے مذکورہ زمین خریدی تھی تو جو آدھی رقم آپ کے ذمہ واجب الاداء ہے اس کو مجموعی مالیت سے منہا کریں گے، اس کے بعد اگر مابقیہ مالیت مقدار نصاب کو پہنچتی ہے تو اس پر زکات واجب ہے، ورنہ نہیں۔ ملاحظہ فرمائیں (فقہی مقالات: ۳/۱۵۷، زکات کے جدید مسائل) مذکورہ بیسی میں شامل ہونا شرعاً جائز ہے کیونکہ اس میں لاٹری کی معرفت صرف تمام ممبران کی رقموں کو ایک ہی ممبر کو دی جاتی ہیں، اور بیسی سے حاصل کردہ رقمیں چونکہ ادھار کی ہیں، لہٰذا اس پر زکات بھی نہیں ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند