• عقائد و ایمانیات >> ادیان و مذاہب

    سوال نمبر: 179775

    عنوان:

    معتزلہ کون ہیں؟

    سوال:

    محترم علماء کرام ۔ میرا سوال یہ ہے کہ معتزلہ کون ہیں؟ اِن کے کیا عقائد ہوتے ہیں؟ کیا یہ فرقہ اب بھی دنیا میں پایا جاتا ہے ؟ آپ کے جواب کا منتظر رہوں گا۔

    جواب نمبر: 17977509-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 24-6T/M=01/1442

     معتزلہ ایک گمراہ فرقہ ہے اس کا وجود حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کے زمانے میں ہوا۔ ”معتزلہ“ ؛ اعتزال سے اسم فاعل ہے، اعتزال کے معنی ہیں الگ ہونا ۔ اہل سنت والجماعت کے عقائد سے الگ ہو جانے کی بنا پر یہ فرقہ ”معتزلہ“ کہلایا۔ اس کا بانی واصل بن عطاء ہے۔ معتزلہ کے مذہب کی بنیاد عقل پر ہے وہ خود کو اصحاب العدل والتوحید کہتے ہیں اور نقل پر عقل کو ترجیح دیتے ہیں ۔ عقل کے خلاف قطعیات میں تاویلات کرتے ہیں اور ظنیات کا انکار کرتے ہیں۔ اس فرقے کے عقائد میں سے چند یہ ہیں:

    معتزلہ کے نزدیک گناہ کبیرہ کا مرتکب ، ایمان سے خارج ہو جاتا ہے مگر وہ کفر میں داخل نہیں ہوتا یعنی نہ وہ مومن رہتا ہے نہ کافر، جب کہ اہل سنت والجماعت کے نزدیک مرتکب کبیرہ ایمان سے خارج تو نہیں ہوتا؛ البتہ وہ کامل مومن نہیں رہتا، اسی طرح معتزلہ کے عقائد میں سے ہے کہ جو لوگ اللہ تعالی کی اطاعت و فرمانبرداری کرتے ہیں ان کو ثواب دینا اور ان کو جنت میں داخل کرنا اللہ تعالی پر واجب ہے اور جو لوگ گناہ گار ہیں ان کو سزا دینا اور ان کو جہنم میں داخل کرنا اللہ تعالی پر واجب ہے یہ عدل کا تقاضہ ہے جب کہ اہل سنت و الجماعت کہتے ہیں کہ اللہ تعالی پر کوئی چیز واجب نہیں، مطیع اور عاصی سب اللہ کے بندے اور اس کے مملوک ہیں اور مالک کو اپنی ملکیت میں ہر تصرف کا اختیار ہوتا ہے، اگر اللہ تعالی عاصی کو جہنم میں ڈال دیں تو یہ اس کا عدل ہے اور اگر معاف کردیں اور جنت میں داخل کردیں تویہ اس کا فضل ہے۔

    معتزلہ اللہ تعالی کی صفات علم، حیات، قدرت وغیرہ کا بھی انکار کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اللہ کی ذات قدیم ہے اور صفات کو قدیم ماننے کی صورت میں تعدد قدماء لازم آتا ہے اور یہ توحید کے منافی ہے اس لیے صفات کا انکار کرتے ہیں لیکن اہل سنت والجماعت اس کا جواب دیتے ہیں کہ صفات کو قدیم ماننا یہ توحید کے منافی نہیں، جو توحید کے منافی ہے وہ ذوات قدیم کا تعدد ہے جو یہاں لازم نہیں آتا ۔ معتزلہ کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ اللہ تعالی بندوں کے افعال کا خالق نہیں ہے بلکہ بندہ خود اپنے افعال کا خالق ہے لیکن اہل سنت والجماعت کے نزدیک بندہ صرف کا سب ہے اور خالق اللہ تعالی ہیں۔ وغیرہ۔

    ․․․․․․ ومعظم خلافیاتہ مع الفرق الإسلامیة خصوصاً المعتزلة لأنہم أول فرقة أسّسوا قواعد الخلاف لما ورد بہ ظاہر السنة وجری علیہ جماعة الصحابة رضوان اللہ علیہم أجمعین في باب العقائد وذلک لأن رئیسہم واصل بن عطاء اعتزل عن مجلس الحسن البصری رحمہ اللہ ویقرر ان من ارتکب الکبیرة لیس بموٴمن ولا کافر ویثبت المنزلة بین المنزلتین فقال الحسن قد اعتزل عنّا فسُمّوا المعتزلة وہم سمّوا أنفسہم أصحاب العدل والتوحید ․․․․․ الخ (شرح العقائد النسفیہ)

    یہ فرقہ اب بھی دنیا میں موجود ہے یا نہیں اس کی ہمیں تحقیق نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند