• عقائد و ایمانیات >> ادیان و مذاہب

    سوال نمبر: 176540

    عنوان: اسکولی لڑكے سے مذاق كرنا

    سوال: میں جب کالج پڑھتا تھا تو ایک روز چند شرید کالج کے لڑکوں کے ساتھ مل کر دو سکول میں جانے والوں بچوں کو تنگ کیا اور ان سے ان کی موٹر سائیکل مانگی تاکہ احتجاج کرنے کے لئے اس کی موٹر سائیکل سے اپنی تعداد زیادہ ہو وہ سکول والے بچے نہیں مان رہے تھے میرے ذہن میں ترکیب سوجھی کے لڑکوں سے بائیک میرے دوست نہ لیں اور مسلہ حل ہو جائے میں نے اپنے دوست کو کہا ایک لڑکے کو اپنے ساتھ لے جاو اور اسے گھر چھوڑ دینا میرا خیال تھا کہ یہ لڑکا اچھا خاصہ بڑا ہے دس کلاس میں اپنی حفاظت جانتا ہے اور جیسے ہی موٹر سائیکل رکے گی یہ بھاگ جائے گا اور ان کے ہاتھ میں نہ آئے گا میرے دوست نے کہا کہ اس کو تو ہم اب اس کے سکول میں اتاریں گیں وہاں ماسٹر سے مار کھائے گا میں بہت خوش ہوا اسے لڑکے کو سکول سے بھاگ کر پارک میں بیٹھنے پر مار پڑے گی تاہم وہ دوست مان گیا اور اس لڑکے کو لے گئے میرا خیال تھا۔ بعد میں وہاں سے کسی اور طرف چل دیا انہوں نے مجھے یقین دہانی کروائی کے سکول میں ہی چھوڑیں گیں بعد میں اس سکول والے لڑکے نے کہا کہ یہ میرے دوست کے ساتھ بدفعلی کریں گیں میں نے کہا ایسا نہیں ہوگا میں اسے یقین دہانی کے لئے سکول لے کر گیا وہاں پر وہ لڑکا نہ ملا یہ بھی ہو سکتا ہے ماسٹر جان بوجھ کر نہیں بتا رہا تھا پھر گھر گئے وہاں بھی لڑکا نہ تھا پھر اپنے کالجی لڑکوں کے گھر جا کر شکایت لگائی کہ آپ کی اولاد یہ کچھ کر رہی ہے۔ پھر چند دن بعد اس لڑکے کے گھر گیا تو وہ گھر پر ہی تھا لیکن مجھے دیکھ کر اس نے اپنے ابا کو آواز دی میرا گناہ تو نہیں میں نہ تو اس کے ساتھ بدفعلی کرنا چا ہتا تھا اور نہ ہی میری نیت یہ تھی کہ اس سے کوئی بد فعلی کرے۔ میرا کیا گناہ ہے اور اس کا اذالہ کیا ہے جب بھی اکیلا بیٹھتا ہوں تو یہ خیالات آتے ہیں۔

    جواب نمبر: 176540

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:493-505/SD=9/1441

     جو تفصیل آپ نے لکھی ہے ،اگر وہ صحیح ہے تو آپ پر کوئی گناہ نہیں ہے ، مطمئن رہیں ، اس معاملے کو نہ سوچیں اور دینی کاموں میں مشغول رہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند