• معاشرت >> عورتوں کے مسائل

    سوال نمبر: 64430

    عنوان: کیا مجھے اپنے شوہر کے پیسے پر کنٹرول کرنے کا حق حاصل ہے؟

    سوال: میرے شوہر ڈاکٹر ہیں، اور ہر مہینہ لاکھوں روپئے کماتے ہیں ، ان کو انتظامی امور کا کوئی آئیڈیا نہیں ہے، اور انہوں نے یہ کام اپنے چھوٹے بھائی کو دیدیا ہے جو ان کو دھوکہ دیتاہے، ہم ڈبل زکاة ادا کرتے ہیں اور غریب رشتہ داروں کو خیرات دیتے ہیں، لیکن میرے شوہر ان کی ضرورتوں سے زیادہ دیتے ہیں اور ان کی سیونگ کے لیے بھی پیسے دیتے ہیں، جب کہ ہمارا اپنا گھر نہیں ہے ، میرے شوہر کہتے ہیں کہ کس شریعت میں ہے کہ تم کو گھر دینا میرے لیے ضروری ہے؟ اب میں اپنے گھر اور بچوں کے مستقبل کے لیے فکر مند ہوں۔ سوال یہ ہے کہ کیا مجھے اپنے شوہر کے پیسے پر کنٹرول کرنے کا حق حاصل ہے؟اور کیا میں زکاة اور خیرات دیئے بغیر سیونگ کرسکتی ہوں؟ اور کیا میں اپنے شوہر کو کہہ سکتی ہوں کہ لوگوں کی ضرورت کے مطابق خیرات دیں ، ضرورت سے زیادہ نہ دیں؟

    جواب نمبر: 64430

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 492-492/M=5/1437 ڈبل زکاة ادا کرنے کا کیا مطلب ہے؟ اگر آپ دونوں (میاں بیوی) صاحب نصاب ہیں تو ہرایک پر الگ الگ زکاة واجب ہے،اگر صرف شوہر صاحب نصاب ہیں تو صرف ان ہی پر زکاة فرض ہے، غریب رشتے داروں کو خیرات دینا دوہرے ثواب کا باعث ہے اس میں صدقہ اور صلہٴ رحمی دونوں کا ثواب ملتا ہے، آپ کے شوہر غریب رشتے داروں کو ان کی ضرورت سے زائد دیتے ہیں یہ اور اچھی بات ہے، صدقہ خیرات کرنے سے مال گھٹتا نہیں ہے اس سے مصائب وپریشانیاں دور ہوتی ہیں اور مزید برکت ہوتی ہے، اس لیے آپ اس کی وجہ سے کبیدہ خاطر نہ ہوں اور اس پر روک نہ لگائیں، بس اس کا خیال رکھیں کہ فضول خرچی نہ ہو، بچوں کے مستقبل کی فکر تو ٹھیک ہے؛ لیکن یہ فکر اپنے اوپر اس طرح سوار نہ کرلیں کہ نیکی کی راہ میں حائل ہوجائے، زکاة فرض ہے اگر زکاة شوہر پر یا آپ پر واجب ہے تو اسے ہرحال میں نکالنا ہے، ہاں نفلی صدقہ خیرات میں اختیار ہے اگر نکالیں تو ثواب ہے اور نہ نکالیں توگناہ نہیں، شوہر کی کمائی سے جس قدر حصہ جمع کرکے رکھنے کی منجانب شوہر اجازت ہو اتنا رکھ سکتی ہیں، اگر شوہر اجازت نہ دے تو درست نہیں، صرف واجبی نفقہ لینے کی آپ حق دار ہوں گی، بہرحال شوہر کو بھی چاہیے کہ اپنے اہل وعیال کا بھی خیال کریں، ان پر تنگی نہ کریں، اور حق تلفی اور فضول خرچی سے بچتے ہوئے اولاد کے مستقبل کے لیے بھی کچھ پس انداز کرکے رکھیں تو مضائقہ نہیں، اولاد کو بہتر حالت میں چھوڑکر جانا بہتر ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند