• معاشرت >> عورتوں کے مسائل

    سوال نمبر: 63874

    عنوان: اسقاط كے بعد جو خون آتا ہے اس كا كیا حكم ہے؟

    سوال: (۱) اس صورت میں کہ حمل خراب ہونے کی صورت میں اسقاط کرایا گیا (حمل دو ہفتے تین دن کا تھا) اب بھی عورت کو خون آتاہے ، کبھی کم کبھی زیادہ جس سے ڈاکٹر نے بتایا کہ ماہواری آنے تک آتا رہے گا قریباً ۲۱ سے ۳۵ دن تک؟ اس صورت میں اس عورت کی نماز کا کیا حکم ہوگا؟ اور غسل کا کیا حکم ہوگا؟ جب کہ اس کی ماہواری کنٹرول کرنے دوا بھی ساتھ چل رہی ہے؟

    جواب نمبر: 63874

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 938-938/M=10/1437

     

    مذکورہ حمل کے اسقاط حمل کے بعد جو خون آرہا ہے وہ اگر حیض (ماہواری خون) بن سکتا ہوتو حیض شمار ہوگا یعنی اگر ایام حیض میں خون آرہا ہے اور عادت کے مطابق ہے یا دس دن تک آکر بند ہوجاتا ہے تو حیض ہے او رحیض میں نماز معاف ہے او رحیض بند ہونے کے بعد غسل طہارت لازم ہے اور اگر وہ خون دس دن سے زائد آتا ہے تو عادت کے مطابق ایام کو ایام حیض شمار کریں گے او راس سے زائد کو استحاضہ شمار کریں گے اور استحاضہ میں نماز معاف نہیں، اگر استحاضہ میں خون اس تسلسل کے ساتھ آئے کہ عورت کو ایک نماز کے پورے وقت میں اتنا بھی موقع خالی نہ ملے کہ وضو کرکے فرض نماز ادا کرسکے تو وہ شرعاً معذور ہے اس کو اسی حال میں وضو کر کے نماز پڑھنا چاہئے اور وقت کے ختم ہونے کے ساتھ اس کا وضو بھی ختم ہو جائے گا اور دوسری نماز کے لئے دوسرا وضو کرنا ہوگا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند