• معاشرت >> عورتوں کے مسائل

    سوال نمبر: 60862

    عنوان: اسلام میں عورت کو شوہر کی کس حد تک فرمانبرداری کا حکم ہے؟ اگر بیوی کو شوہر کسی بات سے منع کردے تو کیا عورت پر لازم ہے کہ وہ اس کی بات مانے ، چاہے اس کو نامعقول اور بے وجہ ہی کیوں نہ لگے؟ اوریہ بھی کہ کیا شوہر بیوی کو اس کے ماں باپ سے ملنے سے بھی روک سکتے ہیں؟

    سوال: اسلام میں عورت کو شوہر کی کس حد تک فرمانبرداری کا حکم ہے؟ اگر بیوی کو شوہر کسی بات سے منع کردے تو کیا عورت پر لازم ہے کہ وہ اس کی بات مانے ، چاہے اس کو نامعقول اور بے وجہ ہی کیوں نہ لگے؟ اوریہ بھی کہ کیا شوہر بیوی کو اس کے ماں باپ سے ملنے سے بھی روک سکتے ہیں؟ براہ کرم، رہنمائی فرمائیں۔ شکریہ

    جواب نمبر: 60862

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 669-669/Sd=11/1436-U اسلام میں عورت کو شوہر کی مکمل فرمانبرداری کا حکم دیا گیا ہے، اگر شوہر بیوی کو کسی بات سے منع کردے تو بیوی پر اس کی بات کا ماننا لازم ہے، حدیث میں تو یہاں تک ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو سجدہ روا ہوتا، تو عورت کو حکم ہوتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے، ہاں خلافِ شرع امور میں شوہر کی اطاعت ضروری نہیں ہے؛ بلکہ شوہر اگر بیوی کو کسی معصیت کا حکم کرے، تو بیوی کے لیے اس کی بات ماننا جائز نہیں ہے اور شوہر کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ بیوی کو اس کے والدین سے ملنے سے روک دے اور قطع تعلق کرادے، شوہر کو چاہیے کہ وہ بیوی کو حسب ضرورت جب موقع ہو اس کے والدین کے پاس بھیج دیا کرے، اگر شوہر بیوی کو اس کے والدین سے ملنے سے بالکلیہ منع کرے اور بیوی اس کی اجازت کے بغیر اپنے والدین سے مل لے تو ایسی صورت میں شرعاً بیوی شوہر کی نافرمان نہیں کہلائے گی۔ عن أبی ہریرة، عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: لو کنت آمرا أحدا أن یسجد لأحد لأمرت المرأة أن تسجد لزوجہا (جامع الترمذي: ۱/۲۱۹، أبواب الرضاع والطلاق، باب ما جاء في حق الزوج علی المرأة) وعن النواس بن سمعان رضي اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا طاعة لمخلوق في معصیة الخالق․ (مشکاة المصابیح، ص: ۳۲۱، کتاب الإمارة والقضا، الفصل الثانی) قال الحصکفي: فلا تخرج إلا لحق لہا أو علہا أو لزیارة أبویہا کل جمعة مرة، قال ابن عابدین ینبغي أن یأذن لہا في زیارتہا في الحین بعد الحین علی قدر متعارف․ ألخ (الدر المختار مع رد المحتار: ۴/ ۲۱۸، کتاب النکاح، ط: دار الکتاب، دیوبند) فتاوی دار العلوم: ۱۶/ ۴۸۵- ۴۸۶․


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند