• معاشرت >> عورتوں کے مسائل

    سوال نمبر: 606273

    عنوان:

    حالت حیض میں احتلام، حالت حیض میں قرآن کی تعلیم؟

    سوال:

    حالت حیض میں اگر احتلام ہو یا احتلام ہوا ہو اور غسل نہ کیا ہو اور حیض شروع ہوجائے تو غسل کرکے احتلام سے پاکی حاصل کرسکتے کیا؟ اگر نہیں کر سکتے تو اس صورت میں حدیث کی تعلیم کر سکتے کیا؟ میرے گھر میں مکتب چلتا ہے ایسی حالت میں بچوں کو درس دے سکتی ہوں کیا؟ برائے مہربانی میری اس مشکل کا حل مجھے بتائے ۔

    جواب نمبر: 606273

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:140-34T/SD=2/1443

     (۱) حالت حیض میں اگر احتلام ہوجائے یا احتلام ہوا ہو اور اسی حالت میں حیض شروع ہوجائے تو احتلام کی وجہ سے الگ سے غسلِ جنابت فرض نہیں ہوگا، اس لیے کہ غسلِ جنابت تو پاکی کے لیے ہوا کرتا ہے اور جب تک عورت ایامِ حیض میں ہو تو پاکی کا تصور ہی نہیں ہوسکتا، لہذا ایامِ حیض میں عورت غسل طہارت نہیں کرے گی، ایام ختم ہونے پر ایک غسل کرنے سے حیض اور احتلام دونوں سے پاکی حاصل ہوجائے گی ۔

    "امرأة إذا اجنبت ثم أدرکہا الحیض، أو الحائض إذا أجنبت ثم طہرت حتی وجب علیہا الاغتسال، فإذا اغتسلت فہذا الاغتسال من الجنابة أو من الحیض؟ ... فظاہر الجواب أن الاغتسال یکون منہما جمیعاً" (الفتاوی التاتارخانیة:۲۸۸/۱،کتاب الطہارة، الفصل الثالث، نوع فی المتفرقات، رشیدیہ)

    (۲) حالت حیض یا حالت احتلام میں عورت کے لیے قرآن کریم کی تلاوت ممنوع ہے؛ البتہ ایک ایک کلمہ پڑھ کر ( یعنی ہردو کلموں کے درمیان سانس توڑ کر )تعلیم دے سکتی ہے، لہذا صورت مسئولہ میںآ پ اگر مکتب میں پڑھاتی ہیں تو حالت حیض میں قرآن کریم کی آیت کوایک ایک حرف کرکے پڑھا سکتی ہیں۔

    قال الحصکفی: (و) یحرم بہ (تلاوة القرآن) ولو دون آیة علی المختار (بقصدہ) فلو قصد الدعاء أو الثناء أو افتتاح أمر أو التعلیم ولقن کلمة کلمة حل فی الأصح۔ قال ابن عابدین: (قولہ: ولو دون آیة) أی من المرکبات لا المفردات؛ لأنہ جوز للحائض المعلمة تعلیمہ کلمة کلمة یعقوب باشا. (قولہ: ولقن کلمة کلمة) ہو المراد بقول المنیة حرفا حرفا کما فسرہ بہ فی شرحہا، والمراد مع القطع بین کل کلمتین، وہذا علی قول الکرخی، وعلی قول الطحاوی تعلم نصف آیة نہایة وغیرہا. ونظر فیہ فی البحر بأن الکرخی قائل باستواء الآیة وما دونہا فی المنع. وأجاب فی النہر بأن مرادہ بما دونہا ما بہ یسمی قارئا وبالتعلیم کلمة کلمة لا یعد قارئا اہ ویوٴیدہ ما قدمناہ عن الیعقوبیة۔( الدر المختار مع رد المحتار: ۱۷۳/۱، دار الفکر، بیروت)وإذا حاضت المعلمة فینبغی لہا أن تعلم الصبیان کلمة کلمة وتقطع بین الکلمتین۔ ( الفتاوی الہندیة: ۳۸/۱، دار الفکر، بیروت)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند