• معاشرت >> عورتوں کے مسائل

    سوال نمبر: 605475

    عنوان: کیا عورت کالی پوت ستعمال کرسکتی ہے ؟

    سوال: کیا عورت کالی پوت ستعمال کرسکتی ہے ؟

    جواب نمبر: 605475

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:840-704/N=12/1442

     کالی پوت کا ہار (جو منگل سوتر بھی کہا جاتا ہے) در اصل ہندوانہ زیور ہے اور غیر مسلم خواتین یہ زیور اپنے خاص اعتقادات وتوہمات کے ساتھ پہنتی ہیں اور یہ در اصل ان کے یہاں شادی کے موقعہ پر پہنایا جاتا ہے اور ان کا پنڈت اِس زیور پر کچھ پڑھ کر دم بھی کرتا ہے؛ لہٰذا مسلم خواتین کو کالی پوت کا ہار نہیں پہننا چاہیے، اور جن علاقوں میں یہ زیور صرف غیر مسلم خواتین پہنتی ہیں اور یہ ان کا شعار ہے، دیکھنے والا اُنھیں دیکھ کر غیر مسلم ہی سمجھتا ہے تو وہاں کسی مسلمان خاتون کے لیے یہ زیور جائز نہیں، اور جن علاقوں میں بعض مسلم خواتین بھی پہنتی ہیں، وہاں اگرچہ حرمت کا حکم نہیں ہوگا؛ لیکن کراہت سے بھی خالی نہ ہوگا ، مسلمانوں کو غیروں کی مذہبی چیزوں سے بہرحال بچنا چاہیے اگرچہ عموم وشیوع کی وجہ سے تشبہ کا پہلو نہ رہے یا کم ہوجائے۔

    عن ابن عمر رضي اللّٰہ عنہما قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ”من تشبہ بقوم فہو منہم“ (سنن أبي داود، کتاب اللباس، باب في لبس الشہرة، ۲:۵۵۹، رقم: ۴۰۳۱،ط: دار الفکر بیروت، مشکاة المصابیح، کتاب اللباس، الفصل الثاني،ص:۳۷۵ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)۔

    ( من تشبہ بقوم)أي: من شبہ نفسہ بالکفار مثلاً في اللباس وغیرہ أو بالفساق أو الفجار إلخ (مرقاة المفاتیح شرح مشکاة المصابیح، ۸:۲۲۲،ط:دار الکتب العلمیة بیروت)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند