• معاشرت >> عورتوں کے مسائل

    سوال نمبر: 60487

    عنوان: عورتوں کا نقاب یا حجاب اور نوکری

    سوال: گزارش ہے کہ میری منکوحہ نرس کے شعبے سے وابستہ ہے ۔ہماری ابھی رخصتی نہیں ہوئی ہے ۔ چند عرصہ پہلے اُس کی ۱۶ گریڈ کی گورنمنٹ نوکری ہوئی ہے ۔ وہ عموماً نقاب کرتی ہے لیکن جس ہسپتال میں نوکری ہوئی وہاں جو اُن کی میڈم ہے وہ نقاب یا حجاب کی اجازت نہیں دیتی۔ان کا کہنا ہے کہ نرسنگ کے قانون میں یہ بات نہیں ہے کہ نرس یونیفارم میں نقاب یا حجاب کرے ۔اس کی کوشش ہے کہ نقاب جاری رکھے ۔ اور اگر اس کی بات نہ بھی مانی جائے تو اسے نوکری سے خارج کرنے کا اختیار ہے ۔ ایک اور طرح سے جو کہ نقاب کیا جاتا ہے اس کی اجازت دے رہے ہیں لیکن وہ چھوٹا سا ہوتا ہے اور نہایت باریک ہوتا ہے ۔ اس سے نقاب نہ ہونے کے برابر ہے ۔ آپ سے گزارش تھی کہ اس صورت حال میں آپ بتائیے کہ ایسا کیا جائے کہ دین کے اصول پورے ہو جائیں اور نوکری ختم نہ ہو۔ جہاں تک میرا تعلق ہے میں یہ سوچتا ہوں کہ اگر نوکری ہو بھی تو دینی اصول پہلے پورے کیے جائیں۔آپ سے جلد جواب کی توقع ہے ۔جزاک اللہ خیر

    جواب نمبر: 60487

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 644-509/Sn=10/1436-U اجنبی مردوں کے سامنے عورت کے لیے پردہ کرنا شرعاً فرض ہے، عورت کے لیے ایسی ملازمت شرعاً جائز نہیں ہے جس میں شرعی پردے کی رعایت نہ ہوپاتی ہو یا اجنبی کے ساتھ تنہائی کی نوبت آتی ہو یا غیرمردوں کے ساتھ اختلاط لازم آتا ہو، الغرض آپ کی سوچ ٹھیک ہے، اس کے مطابق عمل درآمد کرائیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند