• معاشرت >> عورتوں کے مسائل

    سوال نمبر: 604232

    عنوان:

    بیوی سے پیار ومحبت كی باتیں نہ كرنا؟

    سوال:

    اللّٰہ پاک آپ اللّٰہ والوں کا سایہ تا دیر ہمارے سروں پر قائم رکھیں۔ حضرت مفتی صاحب ایک خاتون ہیں۔جن کی شادی کو چودہ سال کا عرصہ گزر چکا ہے اور ان کی ایک بیٹی ہے جس کی عمر بارہ سال ہے ۔ بیٹی کی پیدائش کے تین ماہ بعد سے شوہر ہم بستری کرنے کے قابل نہیں رہے ۔کمزوری تو شادی کے وقت ہی سے تھی۔اب شوہر کی اس حالت کو بارہ سال کا عرصہ ہو گیا ہے ۔وہ خاتون ہر طرح سے اپنے شوہر کو علاج کا کہہ کہہ کر تھک گئی ہے ۔شوہر علاج میں دلچسپی نہیں لیتے ۔اور بیوی کے اصرار پر علاج شروع کروائیں تو درمیان میں ہی چھوڑ دیتے ہیں۔صرف یہی نہیں بلکہ بیوی سے کوئی تعلق اور دلچسپی نہیں لیتے ۔بس صرف گھر کا خرچ وغیرہ دیتے ہیں۔باقی گھر میں آکر سارا وقت موبائل پر لگے رہتے ہیں۔بیوی سے کوئی پیار محبت کی بات نہیں کرتے ۔بیوی سے کوئی جسمانی تعلق نہیں رکھتے ۔کبھی بیوی نفسانی خواہش سے مجبور ہو کر رات کو پاس جاے تو کوء رسپونس نہیں دیتے ۔رات گئے تک موبائل استعمال کرتے رہتے ہیں۔بیوی ہر طرح سے منت سماجت کرکے تھک گئی ہے ۔ذہنی اور جسمانی طور پر اذیت میں مبتلا رہتی ہے ۔کبھی کوئی پیار کی بات نہیں۔شوہر دین سے دور ہیں۔نماز بھی نہیں پڑھتے ۔بیوی دین پر عمل کرنے والی ہے ۔ہر طرح سے شوہر کو سمجھا کر تھک گئی ہے ۔بہت اذیت میں مبتلا رہتی ہے ۔ آپ سے یہ پوچھنا ہے ۔

    (۱) شریعت اس عورت کے بارے میں کیا حکم دیتی ہے ۔

    (۲) کیا شوہر گناہ گار نہیں اک جوان عورت کو اس پرفتن دور میں اس طرح رکھنے پر کہ اس کی جسمانی ضروریات پوری نہ کرے ۔شریعت کا ایسے مرد کے لئے کیا حکم ہے ۔

    (۳) اور اگر شوہر کا ایسا رویہ ہے تو بیوی کے ذمے پھر بھی شوہر کے سارے حقوق پورے کرنے ضروری ہیں؟ بیوی گھر کے سارے کام کاج اور شوہر کی خدمت کرتی ہے ۔لیکن اس کے دل میں اب شوہر کی محبت نہیں رہی۔شوہر کے رویے کے باعث۔کیا عورت گناہ گار ہو گی۔؟ آپ سے گزارش ہے کہ شریعت کی روشنی میں اس کا جواب مرحمت فرمائیں۔ اور آپ کی خدمت میں اس خاتون کے لیے خصوصی دعاؤں کی درخواست ہے ۔ آپ کی اک مجبور بیٹی۔

    جواب نمبر: 604232

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:850-94T/L=9/1442

     اسلام میں جس طرح بیوی پر شوہر کے کچھ حقوق ہیں ،اسی طرح شوہر پر بھی بیوی کے کچھ حقوق ہیں ، شوہر کا بیوی سے الگ رہ کر موبائل میں مشغول رہنا ،بیوی سے پیار ومحبت کی باتیں نہ کرنا وغیرہ امور درست نہیں شوہرکو ان چیزوں کی طرف خاص توجہ دینی چاہیے اور بیوی کو ناراض نہیں کرنا چاہیے ، اگر شوہر میں جنسی کمزوری ہے تو اس کا علاج کرانا چاہیے ، اگر شوہر کی اس بے التفاتی کی وجہ سے بیوی کا میلان طبعی طور پر شوہر کی طرف نہ ہوتا ہو تو امید ہے کہ اس پر مواخذہ نہ ہو ؛البتہ بیوی کو چاہیے کہ اس کے باوجود شوہر کی خدمت وغیرہ میں کوتاہی نہ کرے ، اللہ رب العزت اس کا اسے بہتر اجر دیں گے ، اللہ سے دعا ہے کہ اللہ رب العزت اس خاتون کی خصوصی مدد فرمائے۔

    عن عائشة: أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان یقسم بین نسائہ فیعدل ویقول: اللہم ہذا قسمی فیما أملک فلا تلمنی فیما تملک ولا أملک․ (مشکاة المصابیح) وفی المرقاة : قال ابن الہمام: ظاہرہ أن ما عداہ مما ہو داخل تحت ملکہ وقدرتہ یجب التسویة فیہ، ومنہ عدد الوطأت والقبلات، والتسویة فیہما غیر لازمة إجماعا․ (مرقاة المفاتیح شرح مشکاة المصابیح 5/ 2114)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند