• معاشرت >> عورتوں کے مسائل

    سوال نمبر: 602831

    عنوان:

    پندرہ دن سے زیادہ حیض کی صورت میں ہمبستری

    سوال:

    اگر عورت کو15 دن سے زیادہ حیض ہو، اس دوران ہمبستری کر سکتے ہیں؟ اگر کر سکتے ہیں تو وہ کن شرائط پر کر سکتے ہیں ؟

    جواب نمبر: 602831

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:495-66T/sd=7/1442

     حیض کی زیادہ سے زیادہ مدت دس دن اور دس رات ہے اور دس دن کے بعد جو خون آئے، وہ حیض کا خون نہیں ہوتا؛ بلکہ استحاضہ کا ہوتا ہے، لہٰذا دس کے بعد اگر خون آئے تو اس دوران ہم بستری کرسکتے ہیں ۔

    قال الحصکفی: (وأکثرہ عشرة) بعشر لیال ۔۔۔ (والزائد) علی أکثرہ۔۔۔ (استحاضة.) ( الدر المختار مع رد المحتار : ۲۸۳/۱، دار الفکر، بیروت) وقال الحصکفی : (ودم استحاضة) حکمہ (کرعاف دائم) وقتا کاملا (لا یمنع صوما وصلاة) ولو نفلا (وجماعا) قال ابن عابدین : (قولہ وجماعا) ظاہرہ جوازہ فی حال سیلانہ وإن لزم منہ تلویث، وکذا ہو ظاہر غیرہ من المتون والشروح وکذا قولہم: یجوز مباشرة الحائض فوق الإزار وإن لزم منہ التلطخ بالدم، وتمامہ فی ط.وأما ما فی شرح المنیة فی الأنجاس من أن التلوث بالنجاسة مکروہ فالظاہر حملہ علی ما إذا کان بلا عذر والوطء عذر، ألا تری أنہ یحل علی القول بأن رطوبة الفرج نجسة مع أن فیہ تلوثا بالنجاسة، فتخصیص الحل بوقت عدم السیلان یحتاج إلی نقل صریح ولم یوجد، بل قدمنا علی شروح الہدایة التصریح بأن حل الوطء بعد أکثر الحیض غیر متوقف علی الانقطاع فافہم.۔ (الدر المختار مع رد المحتار : ۲۹۸/۱، دار الفکر، بیروت)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند