• معاشرت >> عورتوں کے مسائل

    سوال نمبر: 602452

    عنوان:

    مرد وعورت دونوں کے لیے سینے اور ٹانگ کے بال صاف کرنا کیسا ہے؟

    سوال:

    سوال      ۱-کیا مرد اور عورت اپنے سینے اور ٹانگوں کے بال کاٹ سکتے ہیں؟

    ۲- عورت سر کے کتنے بالل کاٹ سکتی ہے ؟ کیا چھوٹے کرواسکتی ہے ؟ کیا گنج کرواسکتی ہے ؟

    ۳- کیا مرد اور عورت سر کے بالوں پر کالا یا لال رنگ لگا سکتے ہیں ؟ کیا اسے وضو اور غسل میں تو کوئی فرق نہیں پڑتا؟

    ۴- کیا عورت کا غسل کرنے کیلیے پورے بالوں جڑ سے لیکر نیچے پورے بالوں کا گیلا کرنا ضروری ہے ؟ کیا بالوں کی چٹیا بھی کھولنا ضروری ہے ؟

    جواب نمبر: 602452

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:437-744/N=1/1443

     (۱):جی ہاں! مرد وعورت دونوں کے لیے سینے اور ٹانگ کے بال صاف کرنا جائز ہے۔

    (۲):عورت کے لیے سر کے بال کاٹنا، کٹوانا ، چھوٹے کرنا، کرانا یا گنجا کرانا جائز نہیں؛ البتہ اگر کسی عمردراز بوڑھی خاتون کے بال بہت زیادہ لمبے ہوں اور استنجا خانہ وغیرہ میں اُنھیں سنبھالنا مشکل ہوتا ہو تو بہ قدر ضرورت کچھ بال کٹواسکتی ہے، اسی طرح اگر کسی کے بالوں کی نوکیں پھٹ گئی ہوں، جس کی وجہ سے اُن کی بڑھوتری رک گئی ہو تو پھٹے بالوں کی نوکیں کاٹنے کی بھی اجازت ہے؛ تاکہ بالوں کی بڑھوتری شروع ہوجائے اور اگر کسی عورت کے سر میں پھوڑا ہو، جس کے علاج کے لیے آس پاس کے بال کاٹنا ضروری ہو تو پھوڑے کے آس پاس کے بال کاٹنے کی بھی گنجائش ہے۔

    (۳): مرد اور عورت دونوں کے لیے سر کے سفید بالوں میں یا صرف مرد کے لیے ڈاڑھی کے سفید بالوں میں سیاہ خضاب تو ناجائز ہے؛ البتہ مہندی یا مہندی جیسا خضاب جائز ہے، اور آج کل جو خضاب رائج ہیں، اُن میں بالوں پر صرف رنگ چڑھتا ہے، پرت نہیں چڑھتی؛ لہٰذا خضاب کی صورت میں وضو اور غسل پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

    (۴):اگر بال گندھے ہوئے ہوں، یعنی: بالوں کو چند حصوں میں تقسیم کرکے اُنھیں آپس میں ایک دوسرے میں ڈال کر بٹ دیا گیا ہو تو غسل میں صرف بالوں کی جڑوں میں پانی پہنچانا کافی ہے، چوٹی کھول کر جڑ سے آخر تک مکمل بال دھونا ضروری نہیں، اور اگر بال گندھے ہوئے نہ ہوں تو اُنھیں غسل میں جڑ سے آخر تک اچھی طرح دھونا ضروری ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند