• معاشرت >> عورتوں کے مسائل

    سوال نمبر: 601634

    عنوان:

    عورت كا دوسرے شہر میں الگ گھر كا مطالبہ كرنا؟

    سوال:

    عرض ہے کہ بیوی شوہر سے ایسے الگ گھر کا مطالبہ کرے جو اسکے شہر سے دور دوسرے اجنبی شہر ہو، جہاں شوہر والدین سے دوری کیوجہ سے ملاقات اور خود انکی خدمت نہ کر سکے، جبکہ والدین بوڑھے اور اکیلے ہیں ، اسکے علاوہ اس شہر میں کوئی عزیز اقارب نہ ہو کہ ضرورت کے وقت کام آسکیں ، دوسرا ان کے بچے بھی دادا دادی سے دور ہو جائیں تو کیا بیوی کا ایسا مطالبہ جائز ہے؟ جبکہ شوہر اسے اپنی گھر کی دوسری منزل جسکا داخل ہونے کا دروازہ، کچن ، بیت الخلاء سب مکمل طور پہ الگ ہے اس میں رہنے کاانتظام کرے جس میں بیوی سے ساس سسر کی خدمت کا مطالبہ بھی نہ ہو، اور شوہر اپنے والدین کی خود خدمت بھی آسانی سے کرسکے اور بچے بھی اپنے ددھیال سے محروم نہ ہوں تو بیوی کو اس پہ اعتراض کرنا چاہیے؟

    جواب نمبر: 601634

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:303-211/N=5/1442

     آپ نے اپنی بیوی کے لیے گھر کی دوسری منزل پر رہائش کا انتظام کیا ہوا ہے، جس میں داخلہ کا دروازہ، کچن، بیت الخلاء وغیرہ سب مکمل طور پر الگ ہے اور آپ اپنی بیوی سے ساس سسر (اپنے ماں باپ) کی خدمت کا مطالبہ بھی نہیں کرتے ہیں تو اس سے بیوی کا حق ِرہائش کامل طور پر ادا ہوگیا (بہشتی زیور مدلل، ۴: ۳۳، مسئلہ: ۱، ۲، مطبوعہ: کتب خانہ اختری متصل مظاہر علوم سہارن پور)، اب اُس کا آپ سے کسی دور دراز اور اجنبی شہر میں رہائش کا مطالبہ یقیناً بیجا او ر ناجائز مطالبہ ہے، آپ پر اس مطالبے کی تکمیل ہرگز واجب نہیں۔ اور اگر آپ کی بیوی اِس مطالبے کی ضد میں آپ کو تنگ وپریشان کرتی ہے یا گھریلو اور ازدواجی مسائل میں آپ کی بات نہیں مانتی تو وہ اللہ کی نظر میں نافرمان اور گنہگار ہے، اُسے اللہ سے ڈرنا چاہیے، اپنی حرکتوں سے باز آنا چاہیے اور حدود شرع میں رہ کر آپ کے ساتھ ازدواجی زندگی گذارنی چاہیے۔

    والحاصل أن المشھور وھو المتبادر من إطلاق المتون أنہ یکفیھا بیت لہ غلق من دار سواء کان فی الدار ضرتھا أو أحماوٴھا، وعلی ما فھمہ فی البحر من عبارة الخانیة وارتضاہ المصنف في شرحہ لا یکفي ذلک إذا کان فی الدار أحد من أحمائھا یوٴذیھا، وکذا الضرة بالأولی، وعلی ما نقلہ المصنف عن ملتقط صدر الإسلام یکفي مع الأحماء لا مع الضرة، وعلی ما نقلنا عن ملتقط أبی القاسم وتجنیسہ للأستروشني أن ذلک یختلف باختلاف الناس؛ ففي الشریفة ذات الیسار لا بد من إفرادھا، ومتوسط الحال یکفیھا بیت واحد من دار۔ ومفھومہ أن من کانت من ذوات الإعسار یکفیھا بیت ولو مع أحمائھا وضرتھا کأکثر الأعراب وأھل القری وفقراء المدن الذین یسکنون فی الأحواش والربوع۔ وھذا ھو التفصیل الموافق لما مر من أن المسکن یعتبر بقدر حالھما، ولقولہ تعالی:”أسکنوھن من حیث سکنتم من وجدکم“۔ وینبغي اعتمادہ في زماننا ھذا فقد مر أن الطعام والکسوة یختلفان باختلاف الزمان والمکان، وأھل بلادنا الشامیة لا یسکنون في بیت من دار مشتملة علی أجانب، وھذا في أوساطھم فضلاً عن أشرافھم إلا أن تکون دارا موروثة بین إخوة مثلاً فیسکن کل منھم من جھة منھا مع الاشتراک في مرافقھا، فإذا تضررت زوجة أحدھم من أحمائھا أو ضرتھا وأراد زوجھا إسکانھا في بیت منفرد من دار لجماعة أجانب وفی البیت مطبخ وخلاء یعدون ذلک من أعظم العار علیھم فینبغی الإفتاء بلزوم دار من بابھا إلخ (رد المحتار، باب النفقة، ۵: ۳۲۲، ط: مکتبة زکریا دیوبند، ۱۰: ۵۶۷، ۵۶۸، ت: الفرفور، ط: دمشق) ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند