• معاشرت >> عورتوں کے مسائل

    سوال نمبر: 55826

    عنوان: اگر کوئی لڑکی بچپن سے ہی اپنی بھووٴں کی تراش خراش کرتی ہے اور اسے ۳۲سالی عمر میں پتا چلتاہے کہ بھووٴں کی ڈیژائننگ کرنا حرام ہے تو اب اس کے لیے بھووٴں کو ویسے ہی چھوڑ دینا بہت مشکل ہے

    سوال: آپ کی کوششوں کو دیکھ کر تہ دل سے خوشی ہوتی ہے۔ ایک مسئلہ آپ سے دریافت کرنا ہے کہ اگر کوئی لڑکی بچپن سے ہی اپنی بھووٴں کی تراش خراش کرتی ہے اور اسے ۳۲سالی عمر میں پتا چلتاہے کہ بھووٴں کی ڈیژائننگ کرنا حرام ہے تو اب اس کے لیے بھووٴں کو ویسے ہی چھوڑ دینا بہت مشکل ہے کیوں کہ ویسے ہی چھوڑ دینے سے بھویں بہت گہری ہوجاتی ہیں اور آنکھوں کے اوپر آجاتی ہیں اور بہت عجیب معلوم ہوتی ہیں۔ اس صورت میں شریعت کا کیا حکم ہے؟

    جواب نمبر: 55826

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1541-488/L=12/1435-U مذکورہ بالا صورت میں اگر بھووٴں کو ویسے ہی چھوڑدینے میں بہت گہری ہو جائیں اور آنکھوں کے اوپر آجائیں جس کی وجہ سے چہرہ عجیب سا معلوم ہو تو ایسی صورت میں پھیلے ہوئے بھووٴں کو درست کرکے عام حالت کے مطابق کرنے کی گنجائش ہے؛ کیونکہ عورت کے حق میں تزئین مستحب ہے اورازالہ عیب کا استحباب نسبةً زیادہ موٴکدہ ہے۔ قال في الشامي: قولہ: والنامصة ذکرہ في الاختیار أیضا وفيا لمغرب․ النمص نتف الشعر ومنہ المنماص المنقاش ا ھ ولعلہ محمول علی ما إذا فعلتہ لتتزین للأجانب ، وإلا فلو کان في وجھھا شعر ینفر زوجھا عنھا بسببہ ، ففي تحریم إزالتہ بعد ، لأن الزینة للنساء مطلوبة للتحسین ، إلا أن یحمل علی ما لا ضرورة إلیہ لما في نتفہ بالمنماص من الإیذاء وفي تبیین المحارم إزالة الشعر من الوجہ حرام إلا إذا نبت للمرأة لحیة أو شوارب فلا تحرم إزالتہ بل تستحب ا ھ ، وفي التتارخانیة عن المضمرات :ولا بأس بأخذ الحاجبین وشعر وجھہ ما لم یشبہ المخنث اھ (رد المحتار مع الدر المختار/ کتاب الحظر والإباحة/ فصل في النظر واللمس ۹/ ۵۳۶/ زکریا دیوبند)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند