• معاشرت >> عورتوں کے مسائل

    سوال نمبر: 52898

    عنوان: ایام عدت میں بلا ضرورتِ شدیدہ گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں

    سوال: میں اپنے والدین کا اکلو بیٹاہوں اور میری چار بہنیں ہیں ، سب کی شادی ہوچکی ہے۔ ابھی حال ہی میں میرے والد کا انتقال ہوگیا ہے اور آبائی گاؤں میں تدفین ہوئی ہے۔ میرے پاس دوگھرہیں ، ایک آبائی وطن میں اور دوسرا راؤ لپنڈی میں جہاں میں ملازمت کررہا ہوں۔ والد صاحب کے انتقال سے پہلے میرے والدین میرے ساتھ راؤ لپنڈی میں رہتے تھے ، ہم مہینہ میں ایک بار یا عیدین وغیرہ کے مواقع پر اپنے آبائی وطن جاتے تھے ۔ جیسا کہ میں نے ذکر کیا کہ میرا کوئی بھائی نہیں ہے، والدہ کی عدت کے بارے میں بتائیں،اگر وہ آبائی وطن میں رہتی ہیں تو وہ وہاں تنہا رہیں گی اور ان کو ڈاکٹر کے پاس لے جانے والا کوئی نہیں ہوگا کیوں کہ ان کوکئی بیماریاں لاحق ہیں۔ اور اگر میں والد ہ کو اپنے ساتھ راؤلپنڈی میں رکھتاہوں تو کیا میں ان کو دوران عدت آبائی وطن میں لے جا سکتاہوں؟ کیوں کہ مجھے کچھ ضروری کام کی وجہ سے وہاں جانا پڑے گا اور اس صورت میں والدہ راؤلپنڈی میں تنہا رہیں گی۔ براہ کرم، شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ کیا میں والدہ کو عدت کے دوران دونوں گھر میں لے جاسکتاہوں؟

    جواب نمبر: 52898

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 877-295/L=7/1435-U صورت مسئولہ میں آپ کی والدہ محترمہ راولپنڈی ہی میں اپنی عدت وفات گذاریں گی، اور انھیں ایام عدت میں بلا ضرورتِ شدیدہ گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہ ہوگی، لہٰذا آپ اپنی غیرموجودگی میں اپنی والدہ کے پاس اپنی کسی بہن یا خادمہ وغیرہ کا کوئی معقول نظم کریں جو ان کی دیکھ رکھ کرسکے، یا پھر آپ خود ایام عدت میں والدہ کے ساتھ ہی رہیں، بہرصورت بلاضرورتِ شدیدہ دوران عدت آپ کی والدہ کو ”آبائی وطن“ لے جانے کی اجازت نہ ہوگی۔ وتعتدان أي معتدة طلاق وموت في بیت وجبت فیہ إلا أن تخرج أو ینہدم المنزل أو تخاف ونحو ذلک من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إلیہ (الد المختار مع الشامي: زکریا، کتاب الطلاق، باب العدة ۵/۲۲۵) وإذا انتقلت لعذر یکون سکناہا فيا لبیت الذي انتقلت إلیہ بمنزلة کونہا في المنزل الذي انتقلت منہ في حرمة الخروج عنہ کذا فيا لبدائع (بدائع الصنائع زکریا: کتاب الطلاق، أحکام العدة: ۳/ ۳۲۶)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند