• معاشرت >> عورتوں کے مسائل

    سوال نمبر: 48568

    عنوان: دو دو تین تین گھنٹے تک گھروالوں سے بلاضرورت بات کرنا یقینا فضول ہے

    سوال: میراسوال یہ ہے کہ میں اپنے شوہر کے ساتھ سعودی میں رہتی ہوں اورہماری ایک نو ماہ کی بیٹی ہے، میرے شوہر صبح آفس چلے جاتے ہیں اور شام میں آتے ہیں ، پورا دن گھر میں اکیلی ہوتی ہوں ، آفس سے آنے کے بعد ہم رات کا کھانا کھاتے ہیں اور پھر میریش وہر نیٹ پہ اپنے گھر والوں سے بات کرنے لگتے ہیں جوکہ کبھی دوگھنٹے کبھی تین گھنٹے ہوتے ہیں، مجھے اس بات پہ غصہ آتاہے اور میں اپنے کمرہ میں آجاتی ہوں اور میریشوہر پھر کمرہ میں آکے سوجاتے ہیں حالانکہ انہیں پتا ہوتاہے کہ میرا موڈ ٹھیک نہیں ہے ، میری شکایت بس یہ ہے کہ میریشوہر کے پاس میرے لیے وقت نہیں ہے جب کہ وہ کہتے ہیں کہ سارا وقت تمہارا ہے ،مجھے بتائیں کہ کیا میں غلط کررہے ہیں یا میرے شوہر ناانصافی کررہے ہیں، بہت وقت سے ہمارے بیچ یہی مسئلہ چل رہا ہے ۔ آپ جواب عنایت فرمائیں تاکہ میں سے جو غلطی ہو وہ اپنی اصلاح کرے۔

    جواب نمبر: 48568

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1373-1373/M=12/1434-U آپ اپنی شکایت شوہر کے سامنے نرم اور شیریں لہجے میں رکھیں، غصہ اور سخت انداز ہرگز نہ اپنائیں، شوہر کے مقام ومرتبے کا خیال رکھتے ہوئے صبر سے کام لیں، شوہر کا فون پر دو دو تین تین گھنٹے تک گھروالوں سے بلاضرورت بات کرنا یقینا فضول ہے، شوہر کو اس سے بچنا چاہیے،زوجین میں سے ہرایک کو اس کا خیال رکھنا چاہیے کہ اس سے دوسرے کو کوئی اذیت نہ پہنچے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند