• معاشرت >> عورتوں کے مسائل

    سوال نمبر: 40166

    عنوان: عدّت کے آیام کے بارے تفصیلات

    سوال: میں آپ سے ایک فتویٰ لینا چاہتا ہوں ، مسئلہ یہ ہے کہ ہماری بہن کے شوہر کا انتقال ہوگیا ہے، ۱. شوہر کے مرنے کے بعد عدّت کے ایام کتنے ہیں؟ایک ہمارے رشتہ دار (محمّد جاوید بھائی) ہیں انکا کہنا ہے کہ عدّت کی مدّت ۴۰دن ہے اور عشاء سے فجر تک ہی عدّت میں بیٹھنے کی قید ہے، کیا انکا کہنا صحیح ہے؟ ۲.اگر کوئی عورت بنا کسی مجبوری کے شوہر کی عدّت پوری نہ کرے، کیا اسے کفّارا دینا ہوگا؟ براہ کرم، جوابدیں ۔

    جواب نمبر: 40166

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1152-1152/M=8/1433 متوفی عنہا زوجہا کی عدت چار مہینے دس دن ہے۔ اگر شوہر کے انتقال کے وقت آپ کی بہن حاملہ نہیں تھی اور انتقال چاند کی پہلی تاریخ کے علاوہ کسی اور تاریخ میں ہوا ہو تو آپ کی بہن، عدت وفات ایک سو تیس دن پوری کرے گی۔ آپ کے رشتے دار بھائی کی بات صحیح نہیں ہے، صحیح یہ ہے کہ عدت کی مدت چار مہینے دس دن ہے اور رات ہو یا دن ہروقت اورہرلمحہ عدت میں شمار ہوگا، عدت نہ کرنا ناجائز اور گناہ ہے۔ اگر عدت کی مدت گزرگئی اور معتدہ نے عدت کی پابندیوں کا خیال نہیں رکھا تو اس پر توبہ واستغفار لازم ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند