• معاشرت >> عورتوں کے مسائل

    سوال نمبر: 38518

    عنوان: محرم اور غیر محرم

    سوال: عدّت میں غیر محرم سے ملاقات کر سکتے ہیں یا نہیں؟ غیر محرم سے مراد جیسے خلیرے، پھپھڑے، ممیرے بھائی وغیرہ۔ نیز ممانی محرم ہے یا غیر محرم؟ ممانی سے اور بھابھی سے عدّت کی حالت میں ملاقات کر سکتے ہیں یا نہیں ؟ نیز خلیرے، پھپھڑے، ممیرے بھائی وغیرہ یہ غیر محرم ہیں تو ان سے ملاقات کرنا کیسا ہے؟ اگر انکے یہاں جائیں تو ان سے بات چیت وغیرہ کر سکتے ہیں یا نہیں ان کی خیر خبر کیسے لیں؟ کیا ان سے رشتہ ختم کر دیں یا کیسے برتاؤ کریں؟ یا رشتے دار غیر محرم اور غیر رشتے دار غیر محرم میں کچھ فرق ہے؟ یا سب کا حکم ایک ہی ہے؟ نیز بھابھی بھی غیر محرم ہے تو جب ایک ہی گھر میں ہوں تو اس صورت میں کھانا پینا رہنا سہنا ایک ساتھ ہوتا ہے؟ تو اس کو کیسے ڈیل کریں؟ واضح کریں ۔ مہربانی ہوگی.

    جواب نمبر: 38518

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 786-460/L=6/1433 شریعت نے محرم اور غیرمحرم کے اعتبار سے صرف دو تقسیم کی ہے جن سے نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہے وہ محرم ہیں اور جن سے نکاح ہمیشہ کے لیے حرام نہیں ہے وہ غیرمحرم ہیں، غیرمحرم اور غیررشتہ دار محرم میں کوئی فرق نہیں کیا ہے، غیرمحرم مرد کے لیے اپنے غیرمحرم رشتہ دار عورت سے پردہ کرنا ضرور ی ہے ، اگر اپنے غیرمحرم رشتہ دار کی خیر خبر لینی ہو تو ان کے گھر کے کسی بھی مرد سے لے سکتے ہیں، اگر بوقت ضرورت پردہ کی آڑ میں ان سے ہی بات کرلی جائے تو اس کی گنجائش ہے، محض بلاواسطہ، بلا حجاب بات نہ کرنے یا ملاقات نہ ہونے کی وجہ سے رشتہ ختم کرنے کی اجازت نہیں، ان کے ساتھ اچھا برتاوٴ اس کے بغیر بھی ہوسکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ بیچ میں ان کے کسی محرم رشتہ دار کو واسطہ بنالیا جائے، دیور اور بھابھی کو چاہیے کہ حتی الوسع ایک جگہ جمع نہ ہوں، اگر کبھی اجتماع کی نوبت آجائے تو ہرایک نگاہ نیچی رکھے اور حدود شرع کی رعایت کرے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند