• معاشرت >> عورتوں کے مسائل

    سوال نمبر: 36756

    عنوان: حالت حیض حنفی مسلک مے حفظ کر نے والی طلباا بنچھوے قرآن کی تلاوت کر سکتی ہے اگر نہیں تو صرف اس مسلے مے مخالفت کر سکتی ہے.اور تبدیل مسلک کا کیا حکم

    سوال: میں حفظ کر تی ہوں ا ور حیض کے ۱۰ دیں میں سبق پارہ کچا ہو جاتاہے کیا اس صورت میں بن چھوے پڑھنے کی گنجائش ہے ؟ لوگ ہماری دلائل کا یہ جواب دیتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " حائضہ عورت اور جنبی شخص قرآن میں سے کچھ بھی نہ پڑھے " یہ حدیث ضعیف ہے کیونکہ اسماعیل بن عیاش حجازیوں سے روایت کرتے ہیں، اور اس کا حجازیوں سے روایت کرنا ضعیف ہے،(مجموع فتاوی ابن تیمیة21 / 460 اور نصب الرایة1 / 195)اور التلخیص الحبیر 1 / 183۔ قرآن مجید کی تلاوت منع کرنے میں حائضہ عورت کا جنبی پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہیکیونکہ جنبی شخص اس مانع کو غسل کر کے زائل کر سکتا ، لیکن حائضہ عورت ایسا نہیں کر سکتی اور حیض کی مدت بھی لمبی ہوتی ہے ، لیکن جنبی شخص کو نماز کا وقت ہونے پر غسل کرنے کا حکم ہے۔ وہ کہتے کہ اصل میں اس کا جواز اور حلت ہی ہے حتی کہ اس کی ممانعت میں کوئی دلیل مل جائے، لیکن ایسی کوئی دلیل نہیں ملتی جو حائضہ عورت کو قرآن کی تلاوت سے منع کرتی ہو۔ . ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حائضہ عورت کی تلاوت کی ممانعت میں کوئی صریح اور صحیح نص نہیں ملتی۔

    جواب نمبر: 36756

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(م): 407=407-3/1433 حائضہ کے لیے قرآن کی تلاوت کرنا منع ہے، حائضہ معلمہ کے لیے گنجائش ہے کہ آیت کو توڑ توڑکر پڑھے (یعنی آیت کا ایک ایک ٹکڑا یا ایک ایک لفظ) یہی امام ابوحنیفہ، امام شافعی واحمد اور اکثر علماء وائمہ کا مسلک ہے او رابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت اگرچہ موقوف ہے لیکن اس جیسے مسئلے میں موقوف روایت مرفوع کا درجہ رکھتی ہے۔ رہی بات علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی تو وہ ان کا تفرد ہے جو جمہور کے خلاف ہے۔ عن ابن عمر إلخ: قال وفي إسنادہ إسماعیل بن عیاش عن الحجازیین ضعیفة: ․․․ وصوب أبو حاتم وقفہ علی ابن عمر انتہی (۱/۱۰۲) قال الموٴلف: لا یضرنا وقفہ فإن الموقوف في مثل ہذا کالمرفوع․ ودلالتہ علی الباب ظاہرة، والنفساء وإن لم تذکر في الحدیث لکنہا في حکم الحائض فالحکم یشملہا إھ (إعلاء السنن: ۱/ ۲۶۶، باب أن الحائض والجنب لا یقرء ان شیئا من القرآن․ (ط: إدارة القرآن پاکستان)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند