• معاشرت >> عورتوں کے مسائل

    سوال نمبر: 35306

    عنوان: پردے كے بارے میں

    سوال: (۱) میں اپنی بہن کے بارے میں ایک سوال کرنا چاہتاہوں، وہ شادی شدہ ہے اور مکمل شرعی حجاب کرتی ہے اور کبھی کسی غیر محرم سے بات نہیں کرتی ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ میرے کزن (چچازادا بھائی) کے بیٹے کی شادی ہورہی ہے اکتوبر کے آخری دنوں میں۔ ہر کوئی اسے شادی میں جانے پر مجبور کررہا ہے مگر وہ جانے کے لیے تیار نہیں ہے شرعی حجاب کی وجہ سے۔ میرے کزن مرد وخواتین کے لیے الگ انتظامات کریں گے۔ اگر بہن پر دباؤ ڈالا جائے اوریا وہ جانے پرراضی ہوجائے تو اس کا کہنا ہے کہ میں محرم کے سوا کسی سے بات نہیں کروں گی۔ لیکن میرے والد کاکہنا ہے کہ تم کو (بہن ) اس کے (میرے کزن ) ساتھ رہنا ہے۔ اس لیے اس صورت حال کا حل کیا ہے؟کیا اس کے لیے بات کرنے کی کوئی گنجائش ہے؟ وہ ہ سب میرے کزن کے خونی رشتہ دار ہیں۔ (۲) ایک اور بات کہ میرے بہنوئی بھی وہاں جانا چاہتے ہیں، اگر وہ جائیں گے تو وہ ہال سے باہر کھڑہوں گے چونکہ اندر بہت سی خواتین ہوں گی تو ہم کیا کریں؟ہم خواتین کے سامنے بیٹھ بھی سکتے ہیں اگر چہ ہم بات نہ کریں، ہم اپنے آپ کو کنٹرول کرسکتے ہیں۔ براہ کرم، اس بارے میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 35306

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ھ): 2336-991-12/1432 آپ کی بہن اپنے شوہر کے ساتھ ایسے وقت چلی جائیں کہ لوگوں کی آمد میں کچھ وقت باقی ہو اور بہن گھر کی مستورات کے پاس اور بہنوئی گھر کے مردوں کے پاس تھوڑی دیر بیٹھ کر چلے آئیں، آپ بھی وہاں مردوں کے پاس بیٹھیں خواتین کے پاس نہ بیٹھیں، شرکت بھی ہوجائے گی والد صاحب کے حکم پر بھی عمل ہوجائے گا او ران شاء اللہ شریعتِ مطہرہ کا بھی کوئی حکم نہ ٹوٹے گا، البتہ اگر شادی ہی میں خلافِ شرعی امور کا ارتکاب ہو تو ایسی صورت میں شرکت کا حکم بھی بدل جائے گا، خلافِ شرع میں والد صاحب کا حکم ماننا بھی واجب نہیں اگر ایسا ہو تو ادب واحترام ملحوظ رکھتے ہوئے والد صاحب سے معذرت کردیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند