• معاشرت >> عورتوں کے مسائل

    سوال نمبر: 3092

    عنوان:

    میرا سوال یہ ہے کہ کیا لڑکیوں کا گھر سے درو مدرسہ میں رہائش اختیارکرکے دینی تعلیم حاصل کرنا جائز ہے؟ حالانکہ اس میں بہت فتنہ ہے۔ اگر محرم مرد لے جانے اور لانے کے لیے راضی نہ ہو تو بدرجہ مجبوری نامحرم ڈرائیور کے ساتھ تنہائی میں ۱۰/ منٹ کا سفر جائزہے؟ جب کا رہائش میں دل نہ لگے۔

    سوال:

    میرا سوال یہ ہے کہ کیا لڑکیوں کا گھر سے درو مدرسہ میں رہائش اختیارکرکے دینی تعلیم حاصل کرنا جائز ہے؟ حالانکہ اس میں بہت فتنہ ہے۔ اگر محرم مرد لے جانے اور لانے کے لیے راضی نہ ہو تو بدرجہ مجبوری نامحرم ڈرائیور کے ساتھ تنہائی میں ۱۰/ منٹ کا سفر جائزہے؟ جب کا رہائش میں دل نہ لگے۔

    جواب نمبر: 3092

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 173/ ل= 173/ ل

     

    شریعت نے بالغہ عورت کے گھر سے بلاضرورت شدیدہ نکلنے کو پسند نہیں فرمایا ہے حدیث شریف میں ہے: عن ابن عمر رضي اللہ عنہ عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم لیس للنساء في الخروج نصیب إلا مضطرة یعنی عورتوں کو اپنے گھروں سے باہر نکلنے کا حق نہیں ہے، لیکن اس وقت کہ وہ مجبور و مضطر ہوجائیں (رواہ الطبراني في الکبیر) یہی وجہ ہے کہ فقہاء عورتوں کو مسجد جاکر باجماعت نماز ادا کرنے سے منع کرتے ہیں: ویکرہ حضورھن الجماعة مطلقًا (الدر المختار مع الشامي: ج۲ ص۳۰۷، ط زکریا دیوبند) اس لیے اکر لڑکیاں اس عمر کو پہنچ چکی ہیں کہ ان کے نکلنے میں فتنہ کا اندیشہ ہو تو ان کا دور جاکر مدرسہ میں دینی تعلیم حاصل کرنا دسرت نہیں، البتہ اگر وہ کمسن ہیں کہ جن کے نکلنے میں کسی فتنہ کا اندیشہ نہ ہو تو ان کے نکلنے کی گنجائش ہوگی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند