• معاشرت >> عورتوں کے مسائل

    سوال نمبر: 2628

    عنوان:

    کچھ لوگ کہتے ہیں کہ عورت کے لیے چہرے کا پردہ کرنا ضروری نہیں ہے اور اس طرح کا کوئی حکم قرآن اور صحیح حدیث میں نہیں ہے ۔ براہ کرم، قرآن و حدیث کے حوالے سے ترجمہ کے ساتھ پردہ کے بارے میں بتائیں ۔ نوازش ہوگی۔

    سوال:

    کچھ لوگ کہتے ہیں کہ عورت کے لیے چہرے کا پردہ کرنا ضروری نہیں ہے اور اس طرح کا کوئی حکم قرآن اور صحیح حدیث میں نہیں ہے ۔ براہ کرم، قرآن و حدیث کے حوالے سے ترجمہ کے ساتھ پردہ کے بارے میں بتائیں ۔ نوازش ہوگی۔

    جواب نمبر: 2628

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 17/ ج= 17/ ج

     

    جولوگ یہ کہتے ہیں کہ عورت کے لیے چہرے کے پردے کے متعلق کوئی حکم قرآن حدیث میں نہیں ہے ان کی بات صحیح نہیں ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے وَاِذَا سَاَلْتُمُوْھُنَّ مَتَاعًا فَسْئَلُوْھُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ (الأحزاب: ۵۳) دوسری جگہ ارشاد ہے: یُدْنِیْنَ عَلَیْھِنَّ مِنْ جَلاَبِیْبِھِنَّ (الأحزاب:۵۹) پہلی آیت میں حکم ہے کہ جب عورتوں سے کوئی چیز مانگی جائے تو بے پردہ نہ مانگی جائے بلکہ پردے کے پیچھے سے مانگی جائے۔ دوسری آیت میں حکم ہے کہ عورتیں جب باہر نکلیں تو اپنے اوپر چادریں لٹکالیا کریں۔ ظاہر ہے کہ ان چادروں کا لٹکانا چہرے کے پردے کے لیے ہے جیسا کہ مفسرین کی صراحت سے معلوم ہوتا ہے، پس قرآن کے ذریعہ عورتوں کو حکم ہے کہ وہ اپنے گھروں میں پردہ کے ساتھ رہیں اور جب کسی ضرورت سے باہر نکلیں تو برقع یا چادر سے چہرے کو ڈھانپ لیں۔ البتہ ضرورت کے وقت بقدر ضرورت کھول لینے کی اجازت ہے، مثلاً یہ کہ بھیڑ میں چلنا ہو او رچہرہ ڈھانکنے سے اسے نقصان ہوسکتا ہو۔ البتہ اس صورت میں مردوں کو حکم ہے کہ وہ اپنی نگاہوں کو نیچی کرلیں: قُلْ لِّلْمُوٴْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِھِمْ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، فقہی مقالات: ج۴)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند