• معاشرت >> عورتوں کے مسائل

    سوال نمبر: 169904

    عنوان: عورتوں كے بال كاٹنے سے متعلق ایك اشكال كا جواب

    سوال: حضرت ، آپ فتوی دیتے ہیں کہ عورت بال نہیں کاٹ سکتی ، مگر اہل حدیث بریلوی اور کئی حنفی حضرات اور سعودی عرب کے سابق مفتی اعظم کا فتوی ہے کہ عور ت بال کاٹ سکتی ہے، ان کے فتواے پر عمل کرنے میں کیا حرج ہے؟

    جواب نمبر: 169904

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:749-608/N=8/1440

    جو لوگ عورتوں کے لیے بال کاٹنے کی اجازت دیتے ہیں، وہ کون سے بال کاٹنے کی اجازت دیتے ہیں؟ آیا وہ بال جو بہت زیادہ لمبے ہوں اور بیماری یا بوڑھی عورت کے لیے ان کا سنبھالنا مشکل وبھاری ہو یا منھ پھٹے ہوں؟ یا وہ بال جو معتاد مقدار میں ہوں اور ان کے سنبھالنے میں کوئی ناقابل برداشت دقت ودشواری نہ ہوتی ہو؟ اگر پہلی قسم کے بال مراد ہیں تو انھیں ہم بھی بر بنائے ضرورت کاٹنے کی اجازت دیتے ہیں۔ اور اگر دوسری قسم کے بال مراد ہیں تو جن علما نے ان کے کاٹنے کی اجازت دی ہے، براہ کرم! ان کے مدلل فتاوی یا تحریرات ارسال فرمائیں، پھر ہم آپ کو بتائیں گے کہ ان کی رائے میں کیا چوک ہے، جس کی وجہ سے آپ ان کی رائے پر عمل نہیں کرسکتے؟


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند