• معاشرت >> عورتوں کے مسائل

    سوال نمبر: 147832

    عنوان: كیا عورت کو ناپاکی کی حالت میں مسجد نبوی میں داخل ہونا اور قرآن شریف کا پڑھنا پڑھانا جائز ہے

    سوال: میں مسجد نبوی میں قرآن پڑھتی ہو ں اور پڑھاتی ہوں الحمد للہ، آج کل یہاں کے کچھ علماء نے یہ کہا ہے کہ عورت کو ناپاکی کی حالت (حالت حیض) میں مسجد نبوی میں داخل ہونا اور کسی اونچی چیز پر بیٹھ کر قرآن پڑھانا اور پڑھنا جائز ہے۔ معلمہ ہے تو پڑھانے کی ضرورت ہے اور حدیث شریف میں صراحةً کوئی منع نہیں ہے، اُن علماء میں سے ایک جو مسجد نبوی کے امام ہیں(الشیخ عبد المحسن القاسم)، تو کیا اس قول پر ہمیں عمل کرنا جائز ہے؟ کیا کہنا ہے ہمارے علمائے کرام کا اس مسئلہ کے بارے میں؟

    جواب نمبر: 147832

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 553-1371/H=12/1438

    حضراتِ فقہاء کرام رحمہم اللہ تعالی نے اپنی اپنی کتب کی کتاب الطہارة میں یہی ارشاد فرمایا کہ حائضہ و نفساء کو مسجد میں داخل ہونا جائز نہیں مسجد نبوی شریف (علیٰ صاحبہ الف الف تحیة وسلام) میں داخل ہونے کا ممنوع ہونا بدرجہٴ اولیٰ ہوگا یہی حکم قرأة قرآن کریم کا بھی ہے حدیث شریف میں ہے عن ابن عمر رضی اللہ عنہما قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا تقرأ الحائض ولا الجنب شیئا من القرآن رواہ الترمذی وعن عائشة رضی اللہ تعالی عنہا قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وجہوا ہٰذا البیوت عن السمجد فانی لا احل المسجد لحائض ولا جنب رواہ ابوداوٴد (باب مخالة الجنب ومایباح لہ فی الفصل الثانی فی مشکوٰة شریف، ص: ۵۰- ۴۹)

    معلم کے لیے حروف کاٹ کاٹ کر پڑھانے کی گنجائش ہے نیز کوئی تخت معمولی سا اونچا ہو اور معلم اس پر بیٹھ کر پڑھالے اس میں بھی مضائقہ نہیں اونچائی کی ہیئت ایسی نہ ہو کہ جس میں قرآن کریم کی بے ادبی عرفاً سمجھی جائے مسجد نبوی میں مرد قراءِ کرام جو پڑھاتے ان کو تو اونچائی پر بیٹھ کر پڑھاتے ہوئے ہم نے نہیں دیکھا بلکہ برابر برابر سطح پر بیٹھ کر ہی پڑھاتے ہوئے دیکھا ہے معلمات کے متعلق تحقیق نہیں آپ تو اپنے علماء کرام کے فتوی پر عمل کریں جو اوپر لکھ دیا گیا ۔ معلوم نہیں مسجد نبوی میں علماء کرام نے جو فتوی دیا ہے اس کی بنیاد و دلیل کیا ہے؟


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند