• عبادات >> اوقاف ، مساجد و مدارس

    سوال نمبر: 9346

    عنوان:

    کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ پر کہ ایک گاؤں میں ایک صاحب نے جامع مسجد کے لیے زمین وقف کی اس وقت وہاں پر صرف ایک ہی مسجد تھی۔ بعد میں پھر دوسرے محلہ میں ایک شخص نے مسجد کے لیے زمین دی۔ وہاں پر مسجد کی تعمیر ہوچکی ہے اور وہاں پر کافی مسلمانوں کی آبادی ہے۔ اوراس مسجد کے امام صاحب اور موٴذن کی تنخواہ اس مسجد کی آمدنی سے دی جاسکتی ہے یا نہیں،کیوں کہ خدشہ ہے کہ آئندہ ایک اور مسجد بنے گی تو اس مسجد کے لیے بھی دینا پڑے گا؟

    سوال:

    کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ پر کہ ایک گاؤں میں ایک صاحب نے جامع مسجد کے لیے زمین وقف کی اس وقت وہاں پر صرف ایک ہی مسجد تھی۔ بعد میں پھر دوسرے محلہ میں ایک شخص نے مسجد کے لیے زمین دی۔ وہاں پر مسجد کی تعمیر ہوچکی ہے اور وہاں پر کافی مسلمانوں کی آبادی ہے۔ اوراس مسجد کے امام صاحب اور موٴذن کی تنخواہ اس مسجد کی آمدنی سے دی جاسکتی ہے یا نہیں،کیوں کہ خدشہ ہے کہ آئندہ ایک اور مسجد بنے گی تو اس مسجد کے لیے بھی دینا پڑے گا؟

    جواب نمبر: 9346

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 2330=1910/ب

     

    جی ہاں! جس مسجد میں امام اور موٴذن امامت اور اذان کی خدمت انجام دے رہے ہیں، اس مسجد کی آمدنی سے امام و موٴذن دونوں کو تنخواہ دے سکتے ہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند