• عبادات >> اوقاف ، مساجد و مدارس

    سوال نمبر: 607937

    عنوان:

    مدرسہ کےلیے زیروکس مشین خریدنا بہتر ہے یا بازار سے فوٹو کاپی کرانا؟

    سوال:

    سوال : ہمارے مدرسہ کے مہتمم صاب نے اپنے لڑکے کے پاس اپنے گھر میں ایک زیراکس میشین رکھا. یہاں کوئی عام دکان نہیں ہے ، صرف مدرسہ کی کاغذات و اشتہارات اسے بے شمار تعداد میں میں فوٹوکاپی کراتے ہیں۔جبکہ یہی تعداد اگر بازار کے پریس سے پرنٹ کرایا جائے تو اسے ادھا پیسہ کم خرچ ہوتا ہے ۔نیز چھ مہینے یا ایک سال میں جو خرچہ ہوتا ہے اس سے مدرسہ میں ایک میشین خرید ی بھی جاتی ہے ۔ اس فوٹوکاپی کا پیسہ بیٹے کے توسط سے مہتمم صاحب کے گھر جاتا ہے ۔ اب میرا سوال ہے کیا یہ جائز ہے ؟

    جواب نمبر: 607937

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 459-355/M=05/1443

     بر تقدیر صحت سوال، مدرسہ کا پیسہ امانت ہے اس کو پوری دیانت داری سے خرچ کرنا چاہئے، اور جتنا پیسہ بچایا جاسکتا ہو اسے بچانا چاہئے، اگر یہ بات سچ اور حقیقت پر مبنی ہے کہ سال چھ مہینے میں مدرسہ کے کاغذات و اشتہارات کی فوٹو کاپی کرانے میں جس قدر صرفہ آتا ہے اتنے خرچ میں مدرسہ کے لیے ایک مشین خریدی جاسکتی ہے تو انتظامیہ کو اس پر غور کرنا چاہئے اور مدرسہ کے مفاد میں جو بہتر صورت ہو اسے اختیار کرنا چاہئے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند