• عبادات >> اوقاف ، مساجد و مدارس

    سوال نمبر: 607839

    عنوان:

    مسجد کی زمین کو فروخت کرنا یا مسجد کو دوسری جگہ منتقل کرنا ؟

    سوال:

    سوال : میرے دادا نے اپنی ایک جگہ میں مسجد بنوانے کی نیت کی اور شہر کے مشہور علماء کرام اور معزز افراد کی موجوگی میں اِس مسجد کی سنگ بنیاد رکھ وائی اور اپنی ہی رقم سے کچھ اینٹ بجری وغیرہ دیکر کچھ تعمیر ی کام شروع کر وادیا اور چہار دیواری کھڑی کر وادی اور اسکے بعد ٹین شیڈ ڈلواکر اسمیں پنج وقتہ،جمعہ و عیدین کی نماز شروع کر وادی اور اس مسجد میں تقریباً ۶،۵،سال سے نماز ہوتی چلی آرہی ہے لہٰزا اب مسلہ یہ ہیکہ اس جگہ کی قیمت زیادہ ہو گئی تو اب اس مسجد کو شہید کر واکر دوسری جگہ منتقل کر نا یا اسی طرح اس جگہ کو بیچ کر دوسری جگہ لینا شریعت کی روشنی میں جائز ھے یا نہیں ۔ اس سلسلہ میں صحیح رہنمائی فرماکر عنداللہ مشکور ہوں۔

    نوٹ مسلہ پیچیدہ ہے ، جواب جلد ارسال فرمائیں تو نوازش ہوگی۔

    جواب نمبر: 607839

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 498-391/B=04/1443

     جب دادا جان نے اپنی جگہ میں مسجد کی نیت سے مسجد تعمیر کردی اور ٹین کا شیڈ ڈال کر اس میں عام مسلمانوں کو نماز پڑھنے کی اجازت دیدی اور آج 5-6 سال سے اس میں نماز ہو رہی ہے اب یہ مسجد اللہ کے واسطے نماز پڑھنے کے لیے وقف ہوگئی، اور قیامت تک کے لیے وہ بندوں کی ملکیت سے نکل کر اللہ کی ملکیت میں چلی گئی۔ اب اس زمین کو فروخت کرنا اور مسجد کو دوسری جگہ منتقل کرنا جائز نہیں۔ مسجد قیامت تک وہیں رہے گی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند