• عبادات >> اوقاف ، مساجد و مدارس

    سوال نمبر: 606736

    عنوان:

    مسجد کا اکاؤنٹ سیوینگ ہونا چاہیے یا کرنٹ؟

    سوال:

    تمام حضرات کی خدمت میں میرا سوال یہ ہے کہ ایک مسجد کا جو اکاؤنٹ ہے جس میں مسجد کے تمام پیسے ہیں وہ اکاؤنٹ شروع سے سیونگ اکاؤنٹ ہے جہاں سے بھی پیسے آئے اُس میں ہی آتے ہیں اس کے متعلق کیا حکم ہے ؟

    (۱) اس مسجد میں نماز پڑھ سکتے ہیں کوئی مسئلہ تو نہیں؟

    (۲) مسجد کی انتظامیہ کے لیے کیا حکم ہے ؟ ہر 3 یا 6 ماہ بعد پرافٹ لگتا ہے اور اکاؤنٹ میں 4 لاکھ سے زیادہ پیسے ہیں اور زکات بھی کٹتی ہے ۔

    جواب نمبر: 606736

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 243-186/D=03/1443

     مناسب یہ ہے کہ مسجد کا اکاوٴنٹ کرنٹ رکھا جائے تاکہ اس میں 3 یا 6 ماہ پر پرافٹ (سود) نہ آئے۔

    (۱) سیونگ اکاوٴنٹ ہونے کی صورت میں بھی مسجد میں نماز پڑھنے میں کوئی مضائقہ نہیں، بلا کراہت نماز ادا ہوجائے گی۔

    (۲) پرافٹ (سود) کے پیسے مسجد کے اکاوٴنٹ سے نکال کر غرباء مساکین پر بلانیت ثواب صدقہ کردیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند