• عبادات >> اوقاف ، مساجد و مدارس

    سوال نمبر: 605715

    عنوان:

    قبرستان کی چیزیں یعنی پھل لكڑی وغیرہ استعمال كرنا كیسا ہے؟

    سوال:

    میرا سوال یہ ہے کہ قبرستان کے درخت کے پھل یا لکڑی استعمال کرنا کیسا ہے ؟نیز ذاتی قبرستان اور عام قبرستان کا حکم مذکورہ مسئلہ میں ایک ہے یا الگ الگ ہے ؟ اگر قبرستان کی چیزیں فروخت ہو رہی ہو تو اسے خرید نا کیسا ہے ؟

    جواب نمبر: 605715

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:919-705/N=12/1442

     (۱ - ۳): ذاتی (مملوکہ) قبرستان میں لگائے گئے درخت اور پھل تو مالک کی ملک ہوتے ہیں وہ اُن میں جو مالکانہ تصرف کرنا چاہے، کرسکتا ہے، جیسے: خود استعما ل کرے ، فروخت کرے یا کسی کو ہبہ کرے وغیرہ، اور موقوفہ قبرستان میں جو درخت متولی نے قبرستان کے لیے لگائے، وہ قبرستان کے ہوں گے اور ان کی آمدنی قبرستان کے مصارف میں استعمال کی جائے گی اور اگر ایسے قبرستان کے درخت کی لکڑیاں یا پھل فروخت کیے جائیں تو خریدنے والے کے لیے اُن کا خریدنا جائز ہے ؛ البتہ موقوفہ قبرستان مسلم مردوں کی تدفین کے لیے وقف ہوتا ہے اور موقوفہ چیزمیں اُس کے متعینہ مصرف کے خلاف تصرف درست نہیں ہوتا؛ لہٰذا موقوفہ قبرستان میں قبرستان کی آمدنی کے لیے بھی درخت لگانا درست نہیں، قبرستان کی پوری زمین مسلم تدفین کے لیے خاص اور محفوظ رکھنی چاہیے اور اگر غلطی یا لا علمی میں قبرستان میں درخت لگادیے گئے تو جلد از جلد قبرستان کی زمین خالی کرکے مسلم مردوں کی تدفین کے لیے مختص ومحفوظ کرنی کی کوشش کرنی چاہیے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند