• عبادات >> اوقاف ، مساجد و مدارس

    سوال نمبر: 60405

    عنوان: مدرسہ کمیٹی کو حکومت سے حاصل شدہ زمین میں دس فٹ راستہ چھوڑنے کے لیے مجبور کرے؟

    سوال: شہر پورنیہ کی عید گاہ قبرستان کے عقب میں ایک سرکاری خالی زمین تھی، عیدگاہ قبرستان کمیٹی نے قبرستان کی چہار دیواری کی تعمیر کے وقت بغیر سرکاری اجازت کے مشرق میں سرکاری زمین کی طرف ایک چھوٹا سا دروازہ کھول دیا جب کہ ایک بڑا صدر دروازہ مغرب کی جانب تمام امور انجام دینے کے لیے موجود ہے، پورنیہ کے اس سرکاری ہائر سیکنڈر ی مدرسہ کی کمیٹی نے بہت کوشش کرکے خالی سرکاری زمین کو مدرسہ کی نئی عمارت کے لئے سرکار سے منظوری حاصل کرلی ہے۔ اب عیدگاہ قبرستان کمیٹی مدرسے کو مجبور کررہی ہے کہ مشرق کی طرف راستہ کے لیے دس فٹ جگہ چھوڑ کر تعمیر شروع کرے۔سوال یہ ہے کہ کیا عیدگاہ قبرستان کمیٹی کے لیے یہ جائز ہے کہ : (۱) بغیر سرکار ی اجازت کے اس سرکاری خالی زمین کی طرف دروازہ کھلارکھے؟ (۲) مدرسہ کمیٹی کو حکومت سے حاصل شدہ زمین میں دس فٹ راستہ چھوڑنے کے لیے مجبور کرے؟ (۳) کیا ایسی صورت میں عیدگاہ قبرستان کمیٹی عند اللہ قابل گرفت ہوگی یا نہیں؟دلائل کے ساتھ جواب دیں۔شکریہ

    جواب نمبر: 60405

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 835-823/N=10/1436-U (۱-۳) اگر عیدگاہ قبرستان کمیٹی نے جانب مشرق قبرستان کے ایک چھوٹا دروازہ سرکار کی اجازت کے بغیر رکھا ہے، نیز سرکار نے بعد میں بھی اس کی منظوری نہیں دی؛ بلکہ اس جانب کی ساری زمین سرکاری ہائر سیکنڈری اسکول کے لیے منظور کردی ہے تو اب عیدگاہ قبرستان کمیٹی کو چاہیے کہ وہ مشرقی دروازہ بند کردے اور اسکول کی کمیٹی سے دس فٹ رارستہ کا مطالبہ نہ کرے، البتہ اگر سرکار مسلمانوں کی سہولت کے لیے جانب مشرق دروازہ اور دس فٹ راستہ دونوں کی منظوری دیدے تو اس صورت میں جانب مشرق کا دروازہ کھلا رکھنا اور اسکول کی کمیٹی سے دس فٹ راستہ چھوڑوانا بلاشبہ جائز ودرست ہوگا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند