• عبادات >> اوقاف ، مساجد و مدارس

    سوال نمبر: 602362

    عنوان:

    نیچے كی 2/دكان مصالح مسجد كے لیے اور اس كے اوپر كی دو منزلیں مسجد كے لیے وقف كرنا؟

    سوال:

    ایک صاحب کے مین روڈ میں دکان وغیرہ ہیں وہ صاحب مسجد یا مصلی بنانا چاہتے ہیں اگر مصلی ہو تو کیا یہ وقف میں سے ہے ؟ کیا اوپر والی منزل جو ہوا میں اس کو وقف کرسکتے ہیں؟ اگر مسجد کا ارادہ ہو تو کیا مخصوص 2 دکان کو وقف کرکے نیچے دکان کا کرایہ مسجد کے مصالح میں استعمال کرکے اور 2 دکان کے اوپر مسجد بناسکتے ہیں؟ اگر نہیں بناسکتے تو کیا نیچے کے دکان توڑ کر مسجد بنانا ہوگا براہ کرم شرعی مسئلہ سے واقف کرائیں ۔ جزاک اللہ خیرا

    جواب نمبر: 602362

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 516-377/H=06/1442

     مسجد شرعی وہ ہوتی ہے کہ جس کی تمام منزلیں اوپر نیچے مسجد ہی ہوں یا کچھ منزلیں شروع ہی سے مسجد پر وقف ہوں مصالح مسجد کے لئے، اور کچھ منزلیں مسجد شرعی ہوں۔ کسی شخص کی ملکیت اگر اوپر یا نچلی منزل میں ہو مثلاً مکان دوکان تو وہ مسجد شرعی نہیں ہوتی۔ اب جو صاحب مسجد شرعی بنانا چاہتے ہیں تو وہ اپنی دوکان وغیرہ میں اپنی ملکیت اور دوکان وغیرہ ختم کردیں اور پھر مسجد شرعی بنوادیں، اگر مسجد دور ہو اور اپنی دوکان وغیرہ کی کسی منزل میں چھت پر نماز پڑھنے کا انتظام کرلیں تو اگرچہ اس میں مسجد کا ثواب تو نہ ملے گا تاہم جماعت سے پڑھیں گے تو جماعت کا ثواب مل جائے گا اس کو مصلّٰی بھی کہہ دیتے ہیں اس پر مسجد شرعی کے احکام لاگو نہیں ہوتے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند