• عبادات >> اوقاف ، مساجد و مدارس

    سوال نمبر: 602192

    عنوان:

    مدرسہ کے ذمہ دار کا مدرسہ کی رقم سے اساتذہ کا مالی تعاون کرنا، ہدایا دینا یا عمرہ پر بھیجنا کیسا ہے ؟

    سوال:

    مفتیان عظام ! اگر کسی مدرسہ کے ذمہ دار اپنے مدرسہ کے اساتذہ و ملازمین کو بلا امتیاز مدرسہ کی رقم سے (جو زکوٰة و فطرات کی نہ ہو یا اگر ہو تو مستحق طلبہ کے ذریعہ فیس لے کر یا دیگر طریقہ سے اس کی تملیک ہو چکی ہو) ہدایا دیتے ہیں، دعوت دیتے ہیں یا کسی استاذ کے ضرورت کے وقت جیسے بچوں کی شادی،کسی کی بیماری یا گھر کی تعمیر وغیرہ میں رقم دے دیتے ہیں یا ہر سال مدرسہ کی جانب سے کسی استاذ کو حج یا عمرہ پر بھیجتے ہوں تو کیا یہ عمل جائز ہے ؟

    جواب نمبر: 602192

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 468-337/B=05/1442

     جس مقصد کے لئے لوگ مدرسہ کا تعاون کرتے ہیں اسی مقصد میں ذمہ داروں کو خرچ کرنا ضروری ہے دیگر فاضل مصرف میں خرچ کرنا مہتمم کے لئے جائز نہیں۔ مدرسہ کے اخراجات میں اساتذہٴ کرام کی تنخواہیں، طلبہ کے کھانے پینے کا نظم، ان کی فیس، تعمیر کا کام، بجلی کا کرایہ وغیرہ، کسی استاذ کے بچے کی شادی میں یا حج و عمرہ میں خرچ کرنا جائز نہیں۔ اگر مدرسہ میں رقم زیادہ ہے تو اساتذہ کی تنخواہ یا طلبہ کی فیس میں اضافہ کرسکتے ہیں یا طلبہ کے کھانے کی مزید اصلاح کرسکتے ہیں، لیکن مصالح مدرسہ کے علاوہ مصارف میں خرچ کرنا جائز نہ ہوگا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند