• عبادات >> اوقاف ، مساجد و مدارس

    سوال نمبر: 601890

    عنوان: وقف کی زمین پر عارضی تصرف

    سوال:

    سلام مسنون کے بعد عرض یوں ہے کہ میں ایک دینی ادارے میں کام کرتا ہوں، چونکہ میرے پاس یہاں کوئی ذاتی رہائش نہیں ہے اس لئے ادارے کے منتظمین چاہتے ہیں کہ وہ مجھے ادارے کی وقف شدہ زمین میں سے ایک مخصوس حصہ برائے رہائش تحریراً دیں جس میں یہ واضح کیا جائے گا کہ یہ زمین میری ملکیت نہیں ہوگی البتہ مجھے اس پر مکمل تصرف کا حق حاصل ہوگا مزید اگر کسی وقت یہ زمین ادارے کو درکار ہوگی یا میں اسے چھوڑنا چاہوں تو ادارہ اس بات کا پابند ہوگا کہ وہ مجھے اس زمین اور اس پر بنی تعمیر کا مناسب معاوضہ دے ۔ لہذا آپ سے گذارش ہے کہ کیا یہ شرعاً جائز ہے ؟ اگر نہیں تو کیا کوئی دوسری شرعی سبیل ہے ؟

    جواب نمبر: 601890

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:359-293/N=6/1442

     ادارے کا وقف شدہ زمین کا کوئی حصہ، کسی ملازم کو برائے رہائش اس صراحت کے ساتھ دینا کہ وہ زمین ملازم کی ملکیت نہیں ہوگی ؛ البتہ ملازم کو اس پر مکمل تصرف کا حق ہوگا اور جب وہ زمین ادارے کو درکار ہوگی یا ملازم چھوڑنا چاہے گا تو ادارہ ملازم کو اس زمین اور اس پر بنی تعمیر کا مناسب معاوضہ ادا کرنے کا پابند ہوگا، یہ شرعاً درست نہیں؛ کیوں کہ یہ در حقیقت ملازم کو زمین کا اس شرط کے ساتھ مالک بنانا ہے کہ وہ فروخت وغیرہ نہیں کرسکتا؛ کیوں کہ جب زمین اور عمارت کے تخلیہ کے موقعہ پر ادارہ عمارت کے ساتھ زمین کا بھی معاوضہ ادا کرنے کا پابند ہوگا تو یہ واضح طور پر ملازم کو وقف کی زمین کا مالک بنانا ہے۔ اور اگر معاہدہ میں ادارہ ملازم کو صرف عمارت کا معاوضہ ادا کرنے کا پابند ہو، زمین کا معاوضہ ادارے کے ذمہ نہ ہو تو یہ بھی درست نہیں؛ کیوں کہ ممکن ہے کہ ملازم کی تعمیر کردہ عمارت، ادارے کے کسی کام کی نہ ہو اور اس صورت میں معاوضہ ادا کرنے میں ادارہ کا نقصان ظاہر ہے؛ البتہ اگر ادارہ وقف شدہ زمین پر ملازمین کے لیے فیملی کواٹر بنادے اور ملازمین کو مفت یا رعایتی کرایہ پر صرف ملازمت کی بقا تک رہائش دیے تو اس میں شرعاً کچھ مضائقہ نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند