• عبادات >> اوقاف ، مساجد و مدارس

    سوال نمبر: 600364

    عنوان:

    حرام رقم سے مسجد بنانے کا حکم

    سوال:

    کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع متین مسٴلہ ذیل کے بارے میں کہ اگر کسی مسجد کی تعمیر حرام رقم سے کی گئی ہو اور مسجد کے بیت الخلاء وغیرہ حلال رقم سے بنائے گئے ہوں اور یہ کہا جائے کہ ہم نیت کر لیتے ہیں کہ مسجد حلال رقم سے بنائی گئی ہے اور بیت الخلاء حرام رقم سے ، ایسا کرنا کہاں تک صحیح ہے ؟ اور کیا حرام رقم سے مسجد بنائی جا سکتی ہے ؟

    جواب نمبر: 600364

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:94-112/sd=3/1442

     مسجد میں حرام رقم صرف کرنا جائز نہیں ہے ، ایسی رقم سے بنائی گئی مسجد میں نماز مکروہ ہوتی ہے ، مسجد اللہ کا مقدس گھر ہے ، اس میں حلال اور پاکیزہ مال صرف کرنا چاہیے اور صورت مسئولہ میں مسجد کے بیت الخلاء میں لگائی گئی حلال رقم کے بارے میں یہ نیت کرنے سے کہ اس رقم کو مسجد کے لیے مان لیا جائے ؛ کافی نہ ہوگا ، بلکہ اب مسجد کی پاکی کا طریقہ یہ ہے کہ حرام رقم اس کے مالک کو واپس کردی جائے اور اگر حرام رقم کسی ناجائز کاروبار سے حاصل کی گئی تھی ، تو اتنی رقم غرباء مساکین کو دیدی جائے ۔ ( کفایت المفتی :۷۲/۷، کتاب الوقف، دار الاشاعت، کراچی )


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند