• عبادات >> اوقاف ، مساجد و مدارس

    سوال نمبر: 56953

    عنوان: کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ درج ذیل کے بارے میں کہ ایک شخص مدرسہ میں محدث ہے انکو دارالحدیث میں پہنچنے میں وقت مقررہ سے کچھ دیر ہو جاتی ہے جبکہ مطالعہ میں کئی کئی گھنٹے صرف ہو جاتے ہیں تواس صورت میں مدرسہ سے ملے ہوئے معاوضہ کی رقم کا وہ حصہ جو کہ محدث کے اس وقت کا معاوضہ ہے جس وقت میں وہ دارالحدیث میں موجود نہیں تو اس کا لینا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

    سوال: کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ درج ذیل کے بارے میں کہ ایک شخص مدرسہ میں محدث ہے انکو دارالحدیث میں پہنچنے میں وقت مقررہ سے کچھ دیر ہو جاتی ہے جبکہ مطالعہ میں کئی کئی گھنٹے صرف ہو جاتے ہیں تواس صورت میں مدرسہ سے ملے ہوئے معاوضہ کی رقم کا وہ حصہ جو کہ محدث کے اس وقت کا معاوضہ ہے جس وقت میں وہ دارالحدیث میں موجود نہیں تو اس کا لینا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

    جواب نمبر: 5695301-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 153-145/N=3/1436-U طلبہ کی مصلحت سے یا مطالعہ کی وجہ سے یا کسی ذاتی ضرورت کی وجہ سے درسگاہ پہنچنے میں دس پانچ منٹ کی تاخیر قابل عفو ہے؛ لہٰذا مدرس کے پوری تنخواہ جائز ہوگی اور پہلی ودوسری صورت میں کوئی خاص قابل ذکر حرج بھی نہیں (فتاوی دارالعلوم دیوبند ۱۵: ۲۸۳ سوال: ۶۲، اجارے کا بیان) اور اگر کوئی مدرس کسی ذاتی ضرورت کی وجہ سے درسگاہ پہنچنے میں کچھ بھی تاخیر نہ کرے اور اگر کبھی ہوجائے تو تاخیر کے بقدر تنخواہ مدرسہ کو واپس کردے تو یہ اعلیٰ درجہ کے تقوی کی بات ہے،جیسا کہ ہمارے بعض اکابر کا یہی معمول تھا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند