• عبادات >> اوقاف ، مساجد و مدارس

    سوال نمبر: 54166

    عنوان: عیدگاہ کو مسجد میں تبدیل کرنا

    سوال: ڈی بلاک احمد نگر کالونی چھتر پور ، نئی دہلی میں آزادی سے پہلے کی قدیم عیدگاہ جس میں مسلسل نماز عیدین ہوتی آرہی ہیں جس کو لوگ مسجد بنانا چاہتے ہیں جب کہ عیدگاہ کے اطراف میں پانچ مسجد موجود ہیں ، ان مسجدوں میں نماز پنجگانہ و جمعہ باجماعت پڑھی جاتی ہے ایسی صورت میں اگر کوئی عیدگاہ میں پنج وقتہ نماز اور جمعہ قائم کرے اس کے لیے شریعت کا کیا حکم ہے؟سینکڑوں سال پرانی عیدگاہ کو مسجد کا نام دے کر اس کے وجود کو ختم کرنا شرعاً جائز ہے اگر ہے تو کن شرطوں میں ہے ؟اس عیدگاہ کو لے کر علاقے میں لڑائی جھگڑے کے حالات پیدا ہوگئے ہیں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ چھتر پور احمد نگر کالونی میں دوسری عیدگاہ نہیں ہے ۔ حضرت مفتی صاحب، قران وحدیث کا شرعی حکم واضح فرما کر مسلمانوں کو فتنہ و فساد سے بچائیں ۔ براہ کرم، جواب دیں۔ آپ ہم مسلمانو ں پہ بہت کرم ہوگا۔

    جواب نمبر: 54166

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1240-848/L=10/1435-U اگر وہ جگہ عیدگاہ کے لیے وقف ہے تو اس جگہ کو عیدگاہ کی شکل میں ہی برقرار رکھا جائے، عیدگاہ کو مسجد میں تبدیل کرنا درست نہیں، قال في الشامي: مراعاة غرض الواقفین واجبة․


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند