• عبادات >> اوقاف ، مساجد و مدارس

    سوال نمبر: 32485

    عنوان: مسجد پر اپنا حق جتانا اور خاندان والوں کی مسجد کہنا

    سوال: بنگلور کے ایک علاقہ میں ایک مسجد ہے جس کو اس علاقے کے قدیم لوگوں میں سے ایک کی زمین پر بنوائی گئی ہے ،گویا واقف کی زمین پرخود واقف اور ان کے رشتہ داروں نے بنوائی تھی ، اگر چہ توسیع و ترقی میں عوامی چندے سے کام بھی لیا گیاہے ، اس وقت سے لے کر آج تک اسی خاندان کی سرپرستی میں مسجد کا نظام چل رہا ہے۔ یہاں یہ بات باقبل نظر ہے کہ باضابطہ ہر جمعہ میں چند کیا جاتا ہے اور لوگ دیگر ضروریات میں اپنا تعاون دیتے ہیں،تا ہم ذمہ داروں کا یہ موقف ہے کہ مسجد ان کے خاندان کی ہے ، لہذاسارا اختیار ان ہی کو حاصل ہے ، کسی کو کچھ کہنے کا حق نہیں ہے۔ کیا اس طریقے سے مسجد پر اپنا حق جتانا اور خاندان والوں کی مسجد کہنا جب کہ واقف نے کبھی نہ نہیں کہاہے کہ ” مسجد کی ذمہ داری خاندان والوں کی ہے“شرعا جائز ہے؟

    جواب نمبر: 32485

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(م): 1030=1030-7/1432 شرعی مسجد اللہ کی ملکیت ہوتی ہے، وہ کسی کی جاگیر نہیں ہوتی، اس پر کسی فرد یا خاندان کا حق جتانا صحیح نہیں ہے، ہاں تعارف کے درجے میں واقف یا اس کے خاندان کی طرف نسبت کرنے میں مضائقہ نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند